Skip to main content

Shehr-e-Farid

Rumi

Maulana Rumi and Shamsh Tabrezi

Spread the love

حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ اور حضرت شمس تبریزیؒ

حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ اور حضرت شمس تبریزیؒ کے درمیان شراب کا واقعہ ان کی روحانی تربیت اور عشقِ الٰہی کے سفر کا ایک اہم موڑ مانا جاتا ہے، جو مولانا رومیؒ کی انا کو ختم  کرنے کے لیے پیش آیا۔ یہ واقعہ اردو میں کچھ یوں ہے

شمس تبریزیؒ اور رومیؒ کا شراب کا قصہ

پس منظر اور امتحان:
مولانا رومؒ قونیہ کے بہت بڑے عالم اور مفتی تھے، جبکہ شمس تبریزیؒ ایک درویش صفت عاشقِ الٰہی تھے۔ ایک رات مولانا رومیؒ نے اپنے مرشد، حضرت شمس تبریزیؒ کو اپنے گھر دعوت دی۔ جب سب کچھ تیار ہو گیا، تو حضرت شمسؒ نے مولانا رومیؒ سے فرمایا: “کیا تم میرے لیے شراب لا سکتے ہو؟” 

مولانا رومیؒ اس عجیب فرمائش پر حیران رہ گئے اور کہا: “استادِ محترم! آپ اور شراب؟” حضرت شمسؒ نے فرمایا: “ہاں، کیا تم میری بات نہیں مانو گے؟” مولانا رومیؒ نے کہا: “مجھے تو اس کا علم نہیں تھا (کہ آپ یہ فرمائیں گے)”۔ حضرت شمسؒ نے جواب دیا: “اب جان گئے ہو، لہٰذا شراب لا دو”۔ 

عشق کی آزمائش:
مولانا رومیؒ کے لیے یہ بہت بڑی آزمائش تھی۔ وہ ایک مشہور عالم تھے اور شہر کے لوگوں کے سامنے شراب خانے جانا ان کے لیے سخت شرمندگی کا باعث تھا۔ لیکن اپنے مرشد کی اطاعت میں، مولانا رومیؒ نے اپنی انا کو مارا اور رات کے اندھیرے میں شراب خانے پہنچے۔ 

لوگوں کا ردعمل اور حقیقت:
جب مولانا رومیؒ شراب کی بوتل (صراحی) لے کر واپس آ رہے تھے، تو لوگوں نے انہیں دیکھ لیا۔ پورے شہر میں یہ خبر پھیل گئی کہ “رومی نے شراب پی لی ہے”۔ لوگ حیران اور برہم تھے کہ ایک عظیم عالم ایسا کر سکتا ہے۔ 

جب مولانا رومیؒ گھر پہنچے، تو حضرت شمسؒ نے انہیں کہا: “اے شمس! دیکھو، یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں”۔ اس وقت حضرت شمس تبریزیؒ کی آواز بلند ہوئی: “اے بے شرم لوگو! تم نے ایک عالم اور فقیہ پر شراب نوشی کا الزام لگا دیا۔ جان لو کہ اس بوتل میں شراب نہیں بلکہ سرکہ ہے!” 

حقیقت یہ تھی کہ شمسؒ نے پہلے ہی دکاندار کو سرکہ دینے کا کہہ رکھا تھا۔ جب انہوں نے بوتل کھول کر لوگوں کو سونگھائی تو وہ سرکہ نکلا۔ اس طرح شمسؒ نے رومیؒ کی انا

کو توڑا اور دنیاوی عزت کی حقیقت واضح کی۔

حقیقت سامنے آنے پر لوگوں کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے معافی مانگی۔ اس واقعے کے ذریعے حضرت شمسؒ نے یہ سبق دیا کہ ظاہری شہرت اور دنیاوی عزت فانی ہے، جبکہ حقیقی عزت اللہ کی اطاعت میں ہے۔ اس آزمائش نے مولانا رومیؒ کی زندگی میں انقلاب برپا کر دیا اور انہیں “مولوی” سے “عاشقِ رومی” بنا دیا۔

Popular and trending read

Find out most popular and trending Urdu books right here.

Articles

Shaheed Zulfiqar Ali Bhutto (RA).

Spread the love

Spread the loveسیاسی تاریخ میں بعض شخصیات محض حکمران نہیں ہوتیں بلکہ ایک عہد، ایک نظریہ اور ایک عوامی احساس کی علامت بن جاتی ہیں۔ ایسے ہی رہنماؤں میں شہید

Read More »
Articles

How America Won Independence from Britain, Part-3

Spread the love

Spread the loveآزادی کے بعد نئی ریاست کی تعمیر، آئین کی تشکیل اور مضبوط اداروں کی بنیاد 1783ء میں معاہدۂ پیرس کے ذریعے جب برطانیہ نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کی

Read More »
Articles

How America Won Independence from Britain, Part-4

Spread the love

Spread the loveخانہ جنگی، غلامی کا خاتمہ اور ایک نئے امریکہ کا آغاز..1783ء میں آزادی حاصل کرنے اور اس کے بعد مضبوط آئین، وفاقی نظام اور ریاستی اداروں کی بنیاد

Read More »
Articles

How America Won Independence from Britain, Part-1

Spread the love

Spread the loveدنیا کی تاریخ میں چند ہی ممالک ایسے ہیں جنہوں نے مختصر عرصے میں اپنی قسمت بدل کر عالمی سیاست، معیشت، سائنس اور ٹیکنالوجی پر گہرے اثرات مرتب

Read More »
Articles

How America Won Independence from Britain, Part-2

Spread the love

Spread the loveپہلی قسط میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح برطانیہ کی تیرہ نوآبادیاں آہستہ آہستہ آزادی کی طرف بڑھیں، برطانوی حکومت کی ٹیکس پالیسیوں نے عوام میں بے

Read More »
Articles

How America Won Independence from Britain, Part-6

Spread the love

Spread the loveسرد جنگ، سوویت یونین سے مقابلہ اور عالمی قیادت کی نئی جنگ. دوسری عالمی جنگ 1945ء میں اپنے اختتام کو پہنچی تو دنیا ایک نئے دور میں داخل

Read More »

send your detail