Skip to main content

Shehr-e-Farid

How America Won Independence from Britain, Part-2

America
Spread the love

پہلی قسط میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح برطانیہ کی تیرہ نوآبادیاں آہستہ آہستہ آزادی کی طرف بڑھیں، برطانوی حکومت کی ٹیکس پالیسیوں نے عوام میں بے چینی پیدا کی، بوسٹن ٹی پارٹی جیسے واقعات نے اختلافات کو مزید گہرا کیا، اور بالآخر حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ برطانیہ اور نوآبادیوں کے درمیان مسلح تصادم شروع ہو گیا۔ اب تاریخ ایک ایسے موڑ پر آ چکی تھی جہاں مفاہمت کے تمام راستے تقریباً بند ہو چکے تھے۔
1775ء میں جنگ شروع ہونے کے بعد بھی کئی نوآبادیاتی رہنما یہ امید رکھتے تھے کہ شاید برطانوی بادشاہ حالات کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے اپنی پالیسی تبدیل کر دے گا۔ انہوں نے بادشاہ جارج سوم کو درخواستیں بھی بھیجیں، لیکن ان درخواستوں کو مسترد کر دیا گیا۔ برطانوی حکومت نے باغیوں کو کچلنے کا فیصلہ کیا اور مزید فوجیں امریکہ بھیج دیں۔ اس کے بعد نوآبادیوں کے رہنماؤں کو یقین ہو گیا کہ اب آزادی کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔
اسی دوران ایک ایسی کتاب شائع ہوئی جس نے عام لوگوں کی سوچ بدل دی۔ جنوری 1776ء میں تھامس پین نے اپنی مشہور کتابچہ “Common Sense” شائع کیا۔ اس میں انہوں نے سادہ مگر مؤثر انداز میں دلیل دی کہ ایک دور دراز بادشاہ کے ماتحت رہنے کے بجائے امریکی عوام کو اپنی آزاد حکومت قائم کرنی چاہیے۔ یہ تحریر ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں تک پہنچی اور آزادی کے حق میں عوامی رائے تیزی سے مضبوط ہونے لگی۔
جون 1776ء میں کانٹینینٹل کانگریس نے فیصلہ کیا کہ ایک باقاعدہ اعلانِ آزادی تیار کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں نوجوان قانون دان تھامس جیفرسن کو مرکزی مسودہ لکھنے کی ذمہ داری دی گئی۔ جیفرسن نے ایسی تاریخی دستاویز تیار کی جس نے صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں آزادی، انسانی حقوق اور عوامی حاکمیت کے نظریات کو نئی قوت بخشی۔
4 جولائی 1776ء کو کانٹینینٹل کانگریس نے اعلانِ آزادی (Declaration of Independence) منظور کر لیا۔ اس اعلان میں واضح طور پر کہا گیا کہ تیرہ نوآبادیاں اب برطانوی سلطنت کا حصہ نہیں رہیں بلکہ آزاد اور خودمختار ریاستیں ہیں۔ اس میں یہ اصول بھی بیان کیا گیا کہ تمام انسان بنیادی حقوق کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں، حکومت اپنی طاقت عوام کی رضامندی سے حاصل کرتی ہے، اور اگر کوئی حکومت عوام کے بنیادی حقوق پامال کرے تو عوام کو اسے تبدیل کرنے یا ختم کرنے کا حق حاصل ہے۔
یہ اعلان صرف ایک سیاسی دستاویز نہیں تھا بلکہ ایک نظریاتی انقلاب بھی تھا۔ اس نے دنیا بھر کے آزادی پسندوں کو یہ پیغام دیا کہ قومیں اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکتی ہیں۔
لیکن اعلانِ آزادی کر دینا ایک بات تھی، جبکہ اسے میدانِ جنگ میں ثابت کرنا بالکل دوسری بات۔ برطانیہ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی بحری اور فوجی طاقت تھا۔ اس کی تربیت یافتہ فوج، مضبوط معیشت اور وسیع سلطنت کے مقابلے میں امریکی افواج کے پاس وسائل نہ ہونے کے برابر تھے۔ اس لیے اصل امتحان اب شروع ہونے والا تھا۔
جارج واشنگٹن کی قیادت، جنگ کی مشکلات اور امید کی کرن
4 جولائی 1776ء کو اعلانِ آزادی منظور ہونے کے بعد امریکہ نے خود کو ایک آزاد ریاست قرار تو دے دیا، لیکن حقیقت یہ تھی کہ آزادی کا یہ اعلان ابھی کاغذ تک محدود تھا۔ اس آزادی کو عملی شکل دینے کے لیے دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت، برطانیہ، کے خلاف ایک طویل اور کٹھن جنگ لڑنا باقی تھی۔ برطانوی حکومت نے اعلانِ آزادی کو بغاوت قرار دیتے ہوئے اپنی فوجی کارروائیاں مزید تیز کر دیں۔
اس نازک مرحلے پر پوری تحریک کی نظریں ایک شخص پر مرکوز تھیں، اور وہ تھے جارج واشنگٹن۔ انہیں کانٹینینٹل آرمی کا سپہ سالار مقرر کیا گیا۔ واشنگٹن پیشہ ور فوجی ضرور تھے، مگر ان کے پاس نہ اتنی بڑی فوج تھی، نہ جدید اسلحہ، نہ وافر مالی وسائل، اور نہ ہی باقاعدہ تربیت یافتہ سپاہیوں کی وہ تعداد جو برطانوی فوج کے مقابلے میں کھڑی ہو سکتی۔ ان کی فوج میں زیادہ تر عام کسان، مزدور، تاجر اور رضاکار نوجوان شامل تھے، جو اپنے وطن کی آزادی کے جذبے سے میدان میں اترے تھے۔
جنگ کے ابتدائی مہینے امریکی افواج کے لیے نہایت دشوار ثابت ہوئے۔ برطانوی فوج نے نیویارک سمیت کئی اہم علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ امریکی سپاہیوں کو بار بار پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ سخت سردی، خوراک کی کمی، مناسب لباس کی عدم دستیابی اور اسلحے کی قلت نے حالات مزید مشکل بنا دیے۔ کئی سپاہیوں کے پاؤں میں جوتے تک نہیں تھے، اور بعض اوقات انہیں بھوک اور شدید موسم دونوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
ان تمام مشکلات کے باوجود جارج واشنگٹن نے اپنی فوج کا حوصلہ ٹوٹنے نہیں دیا۔ وہ خود سپاہیوں کے درمیان رہتے، ان کی مشکلات سنتے، انہیں حوصلہ دیتے اور مسلسل یہ یقین دلاتے کہ آزادی کی قیمت قربانی کے بغیر ادا نہیں کی جا سکتی۔ یہی قائدانہ صلاحیت ان کی سب سے بڑی طاقت ثابت ہوئی۔
1776ء کے آخر میں واشنگٹن نے ایک جرات مندانہ فیصلہ کیا۔ کرسمس کی رات انہوں نے برفیلے دریائے ڈیلاویئر کو عبور کیا اور اچانک حملہ کرکے ٹرینٹن میں تعینات برطانوی حلیف فوج کو شکست دی۔ اگرچہ فوجی اعتبار سے یہ ایک محدود کامیابی تھی، لیکن نفسیاتی اعتبار سے اس کی اہمیت بہت زیادہ تھی۔ اس فتح نے امریکی عوام اور سپاہیوں کا اعتماد بحال کیا اور انہیں یقین دلایا کہ برطانوی فوج ناقابلِ شکست نہیں۔
ادھر امریکی رہنما صرف میدانِ جنگ پر انحصار نہیں کر رہے تھے بلکہ سفارتی محاذ پر بھی سرگرم تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ برطانیہ جیسی عالمی طاقت کا مقابلہ بیرونی حمایت کے بغیر بہت مشکل ہوگا۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے یورپی ممالک، خصوصاً فرانس، سے رابطے بڑھائے۔ فرانس پہلے ہی برطانیہ کا روایتی حریف تھا اور وہ برطانوی طاقت کو کمزور کرنا چاہتا تھا۔
ابتدائی طور پر فرانس نے خفیہ طور پر اسلحہ، بارود اور مالی امداد فراہم کی، لیکن بعد میں امریکی کامیابیوں نے فرانس کو یقین دلایا کہ یہ تحریک کامیاب ہو سکتی ہے۔ چنانچہ فرانس نے کھل کر امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ یہی فیصلہ جنگ کا اہم ترین موڑ ثابت ہوا، کیونکہ فرانس کی فوج، بحریہ اور مالی وسائل نے امریکی جدوجہد کو نئی طاقت عطا کی۔
تاریخ میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ صرف جذبہ ہی کامیابی کے لیے کافی نہیں ہوتا۔ مضبوط قیادت، درست حکمتِ عملی، قومی اتحاد اور مؤثر سفارت کاری بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے۔ امریکی تحریکِ آزادی کی کامیابی میں یہ تمام عناصر ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ جارج واشنگٹن کی ثابت قدمی، عوام کا عزم، کانٹینینٹل کانگریس کی سیاسی بصیرت اور فرانس کی سفارتی و عسکری مدد نے مل کر وہ بنیاد فراہم کی جس پر آزادی کی کامیابی کی عمارت کھڑی ہوئی۔
1778ء کے بعد جنگ کا رخ آہستہ آہستہ بدلنا شروع ہو گیا۔ اب امریکی افواج پہلے کی نسبت زیادہ منظم تھیں، بیرونی حمایت بھی حاصل ہو چکی تھی، اور برطانوی فوج کو طویل جنگ کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ فیصلہ کن مرحلہ قریب آ رہا تھا، جو نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کی تاریخ بدلنے والا تھا.
برطانیہ کی شکست، اور ایک نئی ریاست کا جنم
1778ء کے بعد جنگ کا رخ آہستہ آہستہ امریکی نوآبادیوں کے حق میں بدلنے لگا۔ فرانس کی کھلی حمایت نے امریکی افواج کو نہ صرف مالی اور عسکری طاقت فراہم کی بلکہ برطانیہ کو بھی ایک وسیع محاذ پر لڑنے پر مجبور کر دیا۔ بعدازاں اسپین اور نیدرلینڈز نے بھی مختلف انداز میں برطانیہ کے خلاف محاذ آرائی کی، جس سے برطانوی سلطنت پر دباؤ مزید بڑھ گیا۔ اب یہ جنگ صرف امریکہ کی آزادی کی جنگ نہیں رہی تھی بلکہ یورپی طاقتوں کی سیاسی کشمکش کا بھی حصہ بن چکی تھی۔
1781ء میں وہ لمحہ آیا جس نے پوری جنگ کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ امریکی اور فرانسیسی افواج نے مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت ورجینیا کے شہر یارک ٹاؤن (Yorktown) میں برطانوی جنرل چارلس کارنوالِس کی فوج کا محاصرہ کر لیا۔ فرانسیسی بحریہ نے سمندر سے برطانوی کمک کا راستہ بند کر دیا، جبکہ زمینی محاذ پر امریکی اور فرانسیسی افواج نے برطانوی فوج کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔
کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے محاصرے کے بعد 19 اکتوبر 1781ء کو جنرل کارنوالِس نے ہتھیار ڈال دیے۔ اگرچہ اس کے بعد بھی کچھ عرصہ مذاکرات جاری رہے، لیکن حقیقت یہ تھی کہ یارک ٹاؤن کی شکست نے برطانیہ کی جنگ جیتنے کی امید تقریباً ختم کر دی تھی۔ لندن میں بھی یہ احساس پیدا ہو چکا تھا کہ امریکی نوآبادیوں کو طاقت کے ذریعے ہمیشہ اپنے زیرِ نگیں رکھنا اب ممکن نہیں رہا۔
طویل مذاکرات کے بعد 1783ء میں معاہدۂ پیرس (Treaty of Paris) پر دستخط ہوئے۔ اس معاہدے کے تحت برطانیہ نے باضابطہ طور پر ریاستہائے متحدہ امریکہ کی آزادی اور خودمختاری کو تسلیم کر لیا۔ یوں ایک ایسی جدوجہد، جس کا آغاز ٹیکسوں کے خلاف احتجاج سے ہوا تھا، ایک آزاد ریاست کے قیام پر منتج ہوئی۔
لیکن آزادی حاصل کرنا منزل نہیں تھی، بلکہ اصل امتحان اس کے بعد شروع ہوا۔ نئی ریاست کے سامنے بے شمار چیلنج موجود تھے۔ جنگ نے معیشت کو نقصان پہنچایا تھا، مختلف کالونیوں کے مفادات ایک دوسرے سے مختلف تھے، خزانہ خالی تھا، مستقل فوج محدود تھی، اور ایک مضبوط وفاقی نظام ابھی تشکیل پانا باقی تھا۔ سوال یہ تھا کہ کیا یہ نئی ریاست اپنے داخلی اختلافات پر قابو پا سکے گی، یا آزادی کے فوراً بعد انتشار کا شکار ہو جائے گی؟
یہیں پر امریکہ کے بانی رہنماؤں کی دوراندیشی نمایاں ہوتی ہے۔ انہوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ صرف آزادی کافی نہیں، بلکہ آزادی کو محفوظ رکھنے کے لیے مضبوط آئین، مستحکم ادارے، قانون کی حکمرانی، عوامی نمائندگی اور اختیارات کے توازن پر مبنی نظام ضروری ہے۔ اسی سوچ کے نتیجے میں بعد کے برسوں میں امریکی آئین تشکیل دیا گیا، وفاقی حکومت قائم ہوئی، اور ریاستی اداروں کی بنیاد رکھی گئی۔
1789ء میں جارج واشنگٹن امریکہ کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ یہ ایک غیر معمولی لمحہ تھا، کیونکہ انہوں نے جنگی ہیرو ہونے کے باوجود اقتدار کو ذاتی ملکیت بنانے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے جمہوری روایات کو فروغ دیا، آئین کی بالادستی کو تسلیم کیا اور یہ مثال قائم کی کہ ریاست افراد سے نہیں بلکہ اداروں سے مضبوط ہوتی ہے۔ یہی روایت بعد میں امریکہ کے سیاسی استحکام کی بنیاد بنی۔
امریکہ کی آزادی کی جنگ ہمیں کئی اہم اسباق دیتی ہے۔ پہلی بات یہ کہ کوئی بھی قوم صرف ہتھیاروں کی طاقت سے آزاد نہیں ہوتی، بلکہ قومی اتحاد، واضح مقصد، باصلاحیت قیادت اور عوامی عزم بھی اتنے ہی ضروری ہوتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ آزادی کے بعد اصل کامیابی مضبوط ادارے قائم کرنے، قانون کی بالادستی یقینی بنانے اور اختلافات کو آئینی طریقے سے حل کرنے میں ہوتی ہے۔ یہی وہ اصول تھے جنہوں نے آنے والی صدیوں میں امریکہ کی ترقی کی بنیاد رکھی۔
اگرچہ آزادی کے بعد بھی امریکہ کو غلامی، نسلی امتیاز، مقامی باشندوں کے حقوق، داخلی اختلافات اور معاشی مشکلات جیسے بڑے مسائل کا سامنا رہا، لیکن اس کی قیادت نے بتدریج ایسے ادارے قائم کیے جنہوں نے ریاست کو مستحکم کیا اور اسے مسلسل آگے بڑھنے کا موقع دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آزادی کا سال 1776ء صرف ایک تاریخی تاریخ نہیں بلکہ ایک نئے سیاسی نظریے کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے، جس نے بعد میں دنیا کے کئی

send your detail