Skip to main content

Shehr-e-Farid

Shaheed Zulfiqar Ali Bhutto (RA).

Spread the love

سیاسی تاریخ میں بعض شخصیات محض حکمران نہیں ہوتیں بلکہ ایک عہد، ایک نظریہ اور ایک عوامی احساس کی علامت بن جاتی ہیں۔ ایسے ہی رہنماؤں میں شہید ذوالفقار علی بھٹوؒ کا نام تاریخ کے سنہری اوراق میں ہمیشہ نمایاں رہے گا۔ وہ ایک غیر معمولی مدبر، بے مثال مقرر، جرات مند سفارت کار، عوامی قائد اور پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ان معدودے چند رہنماؤں میں سے تھے جنہوں نے اقتدار کو عوامی امنگوں سے جوڑنے کی کوشش کی۔ ان کے چاہنے والے انہیں غریب عوام کی آواز، جمہوریت کا علمبردار اور پاکستان کے قومی وقار کی علامت قرار دیتے ہیں۔
ذوالفقار علی بھٹو 5 جنوری 1928ء کو لاڑکانہ، سندھ کے ایک بااثر خاندان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے امریکہ کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے اور برطانیہ کی یونیورسٹی آف آکسفورڈ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ قانون، بین الاقوامی تعلقات اور سیاسیات پر ان کی گہری نظر نے انہیں کم عمری ہی میں ایک ممتاز دانشور اور سفارت کار کے طور پر متعارف کرایا۔
سیاست میں ان کا عروج تیزی سے ہوا۔ انہوں نے مختلف وفاقی وزارتوں کی ذمہ داریاں سنبھالیں، مگر بطور وزیر خارجہ ان کی صلاحیتیں دنیا کے سامنے زیادہ نمایاں ہوئیں۔ ان کی خطابت، خود اعتمادی اور قومی مفادات پر دوٹوک مؤقف نے انہیں عالمی سفارتی حلقوں میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ اقوام متحدہ سمیت مختلف عالمی فورمز پر انہوں نے پاکستان کا مقدمہ ایسے انداز میں پیش کیا کہ دوست اور مخالف دونوں ان کی ذہانت اور حاضر جوابی کے معترف نظر آئے۔
بھٹو کی شخصیت کے بارے میں ایک مشہور سیاسی روایت بیان کی جاتی ہے کہ امریکہ کے صدر رچرڈ نکسن نے ان سے کہا کہ اگر وہ امریکہ میں ہوتے تو شاید ان کے وزیر خارجہ ہوتے۔ اس کے جواب میں بھٹو نے کہا کہ اگر وہ امریکہ میں ہوتے تو وزیر خارجہ نہیں بلکہ ان کی جگہ امریکہ کے صدر ہوتے۔ ایسی روایات ان کے اعتماد، بلند حوصلے اور غیر معمولی شخصیت کی عکاسی کرتی ہیں۔
1967ء میں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ یہ محض ایک سیاسی جماعت کا قیام نہیں تھا بلکہ پاکستان کی سیاست میں ایک نئی عوامی سوچ کا آغاز تھا۔ ان کا تاریخی نعرہ “روٹی، کپڑا اور مکان” دیکھتے ہی دیکھتے کروڑوں پاکستانیوں کی امیدوں کی آواز بن گیا۔ مزدور، کسان، طلبہ اور متوسط طبقہ بڑی تعداد میں ان کے قافلے کا حصہ بنتے گیۓ، کیونکہ انہیں یقین تھا کہ بھٹو ان کے حقوق اور بہتر مستقبل کی بات کر رہے ہیں۔
1970ء کے عام انتخابات کے بعد پاکستان شدید سیاسی بحران کا شکار ہوا۔ 1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی نے قوم کو گہرے صدمے سے دوچار کردیا۔ ایسے نازک وقت میں ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کی قیادت سنبھالی۔ ان کے سامنے ایک شکست خوردہ معیشت، ٹوٹا ہوا قومی اعتماد اور بین الاقوامی سطح پر دباؤ کا شکار پاکستان تھا۔ انہوں نے ریاستی اداروں کی ازسرِ نو تنظیم، قومی خود اعتمادی کی بحالی اور مستقبل کی سمت متعین کرنے کی کوشش کی۔
ان کے دور کا سب سے بڑا آئینی کارنامہ 1973ء کا آئین ہے، جسے پاکستان کی تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے اتفاقِ رائے سے منظور کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ نصف صدی گزرنے کے باوجود یہی آئین پاکستان کی ریاستی اور جمہوری بنیاد ہے۔ پارلیمانی نظام، بنیادی حقوق، وفاقی ڈھانچہ اور عدلیہ کی آزادی جیسے اہم اصول اسی آئین میں مضبوط انداز میں شامل کیے گئے۔ یہ کارنامہ ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی بصیرت، مفاہمت کی صلاحیت اور قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی غیر معمولی صلاحیت کا مظہر سمجھا جاتا ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں پاکستان نے عالمِ اسلام میں بھی اپنی حیثیت کو مضبوط کیا۔ 1974ء میں لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد انہی کی سفارتی بصیرت کا نتیجہ تھا۔ اس کانفرنس میں مسلم دنیا کے متعدد سربراہان کرنل قزافی مرحوم,شاہ فیصل مرحوم اور دیگر رہنما پاکستان آئے، جس سے نہ صرف پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ میں اضافہ ہوا بلکہ مسلم ممالک کے درمیان تعاون کو بھی نئی جہت ملی۔ یہ کانفرنس آج بھی پاکستان کی کامیاب سفارتی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں شمار کی جاتی ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو کی دور اندیش قیادت کا ایک اور عظیم کارنامہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنا تھا۔ 1971ء کی جنگ کے بعد انہوں نے یہ احساس دلایا کہ قومی سلامتی مضبوط دفاع سے وابستہ ہے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے پاکستانی سائنس دانوں کو یکجا کیا اور ایٹمی پروگرام کو ریاستی ترجیح بنایا۔ بعد ازاں یہی پروگرام پاکستان کی دفاعی خودمختاری کی علامت بنا، جس کے باعث بھٹو کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا معمار بھی کہا جاتا ہے۔
بھٹو کی خطابت ان کی شخصیت کا سب سے طاقتور پہلو تھی۔ اقوام متحدہ میں ان کی تقاریر آج بھی سیاسی تاریخ کا حصہ سمجھی جاتی ہیں۔ وہ جب پاکستان کے مؤقف کا دفاع کرتے تو ان کے لہجے میں خود اعتمادی، قومی غیرت اور دلیل کا ایسا امتزاج ہوتا جو سامعین کو متاثر کیے بغیر نہ رہتا۔ ان کے حامی انہیں پاکستان کے وقار اور خودداری کی علامت قرار دیتے ہیں۔
1977ء کے عام انتخابات کے بعد ملک میں شدید سیاسی کشیدگی پیدا ہوئی۔ اپوزیشن اتحاد نے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور احتجاجی تحریک شروع کی۔ اسی سیاسی بحران کے دوران 5 جولائی 1977ء کو جنرل ضیاالحق نے مارشل لا نافذ کر کے منتخب حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ اس اقدام نے پاکستان کے جمہوری سفر کو ایک بار پھر تعطل سے دوچار کر دیا۔
مارشل لا کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ایک قتل کے مقدمے کی کارروائی شروع ہوئی۔ اس مقدمے کے نتیجے میں انہیں سزائے موت سنائی گئی اور 4 اپریل 1979ء کو انہیں پھانسی دے دی گئی۔ یہ فیصلہ پاکستان کی عدالتی اور سیاسی تاریخ کے سب سے زیادہ متنازع فیصلوں میں شمار ہوتا ہے۔ بعد کے برسوں میں بہت سے ممتاز قانون دانوں، سیاست دانوں اور مبصرین نے اس مقدمے پر سوالات اٹھائے، جبکہ حالیہ برسوں میں بھی اس مقدمے کے منصفانہ ٹرائل سے متعلق قانونی مباحث جاری رہے۔
شہید ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد ان کی سیاسی جدوجہد ختم نہیں ہوئی بلکہ ایک نئی شکل اختیار کر گئی۔ ان کی صاحبزادی محترمہ بینظیر بھٹو نے آمریت کے خلاف طویل جدوجہد کی اور بالآخر پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا کی پہلی منتخب خاتون وزیراعظم بن کر تاریخ رقم کی۔ بعد ازاں ان کی شہادت نے بھی پاکستان کی سیاست پر گہرے اثرات چھوڑے۔
آج ان کے نواسے بلاول بھٹو زرداری پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں اور وزیر خارجہ کی ذمہ داریاں بھی نبھا چکے ہیں۔ اس طرح بھٹو خاندان کی سیاسی میراث نصف صدی گزرنے کے باوجود پاکستانی سیاست میں ایک اہم حیثیت رکھتی ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو کے مخالفین ان کی بعض پالیسیوں اور حکومتی فیصلوں پر تنقید کرتے ہیں، جبکہ ان کے حامی انہیں عوامی سیاست، آئین، خودمختار خارجہ پالیسی، اسلامی اتحاد اور قومی وقار کا استعارہ قرار دیتے ہیں۔ یہی اختلافِ رائے ایک جمہوری معاشرے کا حسن بھی ہے، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بھٹو پاکستان کی تاریخ کے سب سے بااثر اور مقبول سیاسی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔
آج، جب ہم شہید ذوالفقار علی بھٹو کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، تو ان کی زندگی کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ قوموں کی طاقت عوام کے اعتماد، آئین کی بالادستی، قومی اتحاد، مضبوط اداروں اور خوددار خارجہ پالیسی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ انہوں نے پاکستانی عوام کو سیاسی شعور دیا، انہیں اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا سکھایا اور سیاست کو ایوانوں سے نکال کر گلیوں، بازاروں اور کھیتوں تک پہنچایا۔
وقت گزر جاتا ہے، حکومتیں بدل جاتی ہیں، اقتدار کے ایوان آباد اور ویران ہوتے رہتے ہیں، مگر تاریخ صرف انہی لوگوں کو زندہ رکھتی ہے جو اپنے نظریات، کردار اور عوامی خدمت سے قوموں کے دلوں میں جگہ بنا لیتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو بھی انہی رہنماؤں میں شامل ہیں جن کا نام پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ عزت، جرات، عوامی محبت اور قومی وقار کے ساتھ لیا جاتا رہے گا۔
شہید ذوالفقار علی بھٹو کو سلام، جن کی سیاست آج بھی بحث کا موضوع ہے، اور جن کا کردار پاکستان کی تاریخ سے کبھی جدا نہیں کیا جا سکتا۔

send your detail