قائم خان دریشک
سرزمینِ راجن پور کا ایک قابلِ فخر انسان جس نے سخاوت کی عمدہ مثال قائم کی۔ لوگ انہیں قائم خان دریشک کے نام سے جانتے ہیں وہ 1894ء میں اپنے والد محمد بختیار خان دریشک کے گھر پیدا ہوئے۔ وہ راجن پور کے مضافاتی قصبہ بستی “شیر علی” کے رہنے والے تھے۔ وہ بنیادی طور پر غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور چند بیگھے زمین پر اُن کی گزر اوقات تھی۔ قائم خان نے بستی شیر علی کے سامنے موجودہ انڈس ہائی وے پر ایک چھوٹی سی دوکان قائم کی جو بعد میں ایک فلاحی مرکز کی حیثیت اختیار کر گئی۔ اس دکان کے پہلو میں ایک بہت بڑے چھپر کے نیچے کم وبیش 70 چارپائیاں ڈال کر آنے جانے مسافروں کی خدمت کی جاتی تھی۔
آہستہ آہستہ یہ جگہ “قائم والی ہٹی” کے نام سے مشہور ہو گئی۔ اس زمانے میں راجن پور تحصیل ہیڈ کوارٹر تھا۔ لوگ پیدل یا زیادہ سے زیادہ گھوڑوں پر سفر کرتے تھے۔ جو لوگ دور ونزدیک کے دیہاتوں سے آتے تو قائم والی ہٹی پر ٹھنڈی چھاؤں میں بچھی چارپائیوں پر ضرور آرام کرتے جہاں ٹھنڈے پانی کے 20 بڑے مٹکے ہر وقت بھرے رہتے تھے اور کم وبیش 15 حقے بھی تازہ رہتے تھے۔ مسافروں کو حقہ پانی کے علاوہ کھانے کو مفت روٹی بھی ملتی تھی۔ یہ ساری خدمت قائم خان خود اپنے ہاتھوں سے سرانجام دیتا تھا۔ قائم خان کا گھر ہٹی سے قدرے فاصلے پر تھا اس لئے گھر میں مہمانوں کی اطلاع یابی کے لئے ہٹی پر ایک نقارہ رکھا ہوا تھا۔ اگر مہمان ایک ہوتا تو قائم خان نقارے پر ایک چوٹ لگاتا اور دُور گھر میں اطلاع ہو جاتی کہ ایک مہمان کی روٹی بھجوانی ہے۔ اس طرح مہمانوں کی تعداد کے مطابق نقارے پر چوٹیں لگائی جاتیں۔ مسافروں کی خدمت کا یہ سلسلہ صبح کی نماز سے لے کر عشاء کی نماز تک جاری رہتا اس کے بعد قائم خان اپنے گھر چلا جاتا مگر ہٹی پر ایک بڑا توا، لکڑیاں اور حسبِ ضرورت آٹا رکھ دیا جاتا تاکہ عشاء کے بعد آنے والے مسافر خود روٹی پکا کر کھا سکیں۔ قائم خان کے ساتھ اُس کے دو چھوٹے بھائی دائم خان اور کرم خان بھی اُسکا ہاتھ بٹاتے اور مہمانوں کی خدمت کرتے۔ اس سارے لنگر کے اخراجات قائم خان اپنی جیب سے برداشت کرتا تھا۔
قائم خان نے ساری زندگی لوگوں کی خدمت اور مسافروں کی تواضع میں خرچ کردی اور بہت کم وسائل میں بہت بڑی سخاوت کی عظیم تاریخ رقم کر کے 1971ء میں اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔ دنیا کی تاریخ میں ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں جو انسانیت کے خیر خواہ اور وفادار ہوتے ہیں۔ لوگوں کو فیض پہنچانے والے ایسے لوگوں کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرتی۔ آئیے ہم بھی ایسے ہی عظیم شخص کو یاد کریں جو اگرچہ ظاہری طور پر سیاسی یا سماجی رتبہ نہیں رکھتا تھا مگرانسانوں کا ہمدرد اور خیر خواہ تھا۔ راجن پور میں انکے نام پر قائم خان دریشک پارک رکھا گیا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں تب خاک کے پردے سے انسان نکلتا ہے
تحقیق و ترتیب : غازی امان اللہ – سابق ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسرراجن پور





