خواجہ قطب الدین
خانوادہٴ فرید کے چشم و چراغ حضرت خواجہ قطب الدین 1912ء (بمطابق 1331ھ) میں اپنے والد حضرت خواجہ معین الدین کے گھر پیدا ہوئے۔ خواجہ قطب الدین اُس عہد کے عظیم روحانی بزرگ حضرت نازک کریم کے پوتے اور عظیم آفاقی شاعر حضرت خواجہ غلام فرید کے پڑپوتے تھے۔ وہ بچپن ہی سے بہت زیرک، علم شناس اور کمال درجہ فہم و فراست کے مالک تھے روحانی فیض اُنہیں گھر سے ہی مل گیا تھا۔ مولانا محمد ابراہیم جیسے باہنر اور فاضل اُستاد نے اُنہیں قرآن پڑھایا اور چند فارسی کتب کی تعلیم دی۔خواجہ قطب الدین ابھی صرف 6 برس کے تھے کہ اُن کے والد خواجہ معین الدین کا 1918ء (بمطابق 1337ھ) میں انتقال ہو گیا، چنانچہ اِس دُرِّ یتیم کی تعلیم و تربیت کیلئے نواب آف بہاول پور نے انہیں اپنی نگرانی میں لے لیا۔ وہاں پر انہیں عربی، فارسی اور صرف و نحو کی ابتدائی کتب کی تعلیم دی جانے لگی۔حضرت خواجہ قطب الدین کی وجاہت وفراست کا چرچا دُور دُور تک پھیلا ہوا تھا۔ وہ اگرچہ کم سن تھے لیکن اُس کے باوجود ریاست بہاول پور، ضلع مظفرگڑھ، ملتان اور ڈیرہ غازیخان تک اُن کے عقیدت مندوں کا سلسلہ پھیلا ہوا تھا۔ مگر عمر نے اُن کیساتھ وفا نہ کی۔ اور وہ 1924ء (بمطابق 1343ھ) میں صرف بارہ برس کی عمر اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے ۔ اُن کی وفات کے بعد خانوادہ فرید کی سجادگی کا سلسلہ ختم ہو گیا۔بطور یادگار راجن پور میں سڑک کا نام ”خواجہ قطب الدین“ رکھا گیا ہے۔
تحقیق و ترتیب : غازی امان اللہ – سابق ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسرراجن پور






