Skip to main content

Shehr-e-Farid

Justice Munir Shaheed

Justice Munir Shaheed

Spread the love

جسٹس محمد منیر شہید

جسٹس محمد منیر خان اگست 1929 میں ضلع راجن پور کے ایک قریبی قصبہ کوٹلہ نصیر میں پیدا ہوئے۔ 1945 میں گورنمنٹ ہائی سکول ڈیرہ غازی خان سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ 

گورنمنٹ ڈگری کالج ڈیرہ غازی خان سے بی اے پاس کرنے کے بعد 1952 میں سندھ مسلم لا کالج سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ایل ایل بی کرنے کے بعد انہوں نے صادق آباد ضلع رحیم یار خان سے وکالت کا آغاز کر دیا اور اپنی بے پناہ ذہانت اور قانونی مہارت کی بنا پر بہت جلد مشہور ہو گئے۔ چنانچہ 1981 میں وہ لاہور ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے۔ بعد ازاں ان کی گرانقدر پیشہ ورانہ صلاحیتوں  کے پیش نظر 1994 میں انہیں سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔ ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کی منصفانہ سے صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت نے احتساب عدالتوں کے لیے ان کی خدمات حاصل کیں۔ چنانچہ 22 اکتوبر 1996 کو انہوں نے پنجاب کے پہلے صوبائی محتسب اعلیٰ کا حلف اٹھایا۔ صوبائی محتسب کی حیثیت سے انہوں نے حکومت کو ہدایت کی کہ ثقافتی فنکار، شعراء اور صاحب علم لوگ جو ہمارا قومی ورثہ ہیں ان کی مالی امداد کی جائے۔ وہ حد درجہ ذی فہم، صاحب فراست اور قانونی موشگافیوں کا   کامل  ادراک رکھتے تھے۔ با لآخر 28 دسمبر 1996 کی صبح کو جب وہ اپنے دفتر جا رہے تھے، دو نامعلوم اشخاص نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر کے انہیں شہید کر دیا۔

جسٹس منیر شہید نے عدلیہ کو ایک نیا  وقار بخشا، اور ایسے فقید المثال فیصلے کیے جن سے مقننہ  میں نئی تاریخ رقم ہوئی۔ ان کے چند اہم فیصلے یہ ہیں 

پندرہ یوم کے اندر چالان مرتب کر کےمقدمہ عدالت میں دیا  جانا۔ 

عورتوں کو تھانہ میں مقید نہ رکھنا۔

جیلوں میں پڑے بے گناہ بنگلہ دیشی/ ہندوستانی مسلمانوں کو آزاد کر کے سرحد پار کرانا۔

چولہا بنانے والی کمپنیوں کو معیاری چولہا بنانے کا پابند کرنا۔

غریب لوگوں کے مقدمات کی مفت پیروی کرنا۔

مرد ڈاکٹرز کے ہاتھوں عورتوں کا پوسٹ مارٹم ممنوع قرار دینا۔

 سینما ایکٹ بابت کا فیصلہ VCR

جسٹس محمد منیر خان ضلع راجن پور کا قابل فخر سرمایہ اور نا بھولنے والی شخصیت تھے۔ قانون کے میدان میں ان کی علمی مہارت اور تجربہ ہمیشہ زبان زد عام رہا۔ راجن پور کے عوام جسٹس صاحب کی خدمات اور پیشہ ورانہ تجربات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔ ایسی ہی شخصیات کے بارے میں مرزا غالب نے کہا تھا۔

                  مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم 

                  تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے۔۔۔؟

تحقیق و ترتیب :     غازی امان اللہ –    سابق ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسرراجن پور

Justice Munir Shaheed
Justice Munir Shaheed
Justice Munir Shaheed
Justice Munir Shaheed
Justice Munir Shaheed

Popular and trending read

Find out most popular and trending Urdu books right here.

Articles

Shaheed Zulfiqar Ali Bhutto (RA).

Spread the love

Spread the loveسیاسی تاریخ میں بعض شخصیات محض حکمران نہیں ہوتیں بلکہ ایک عہد، ایک نظریہ اور ایک عوامی احساس کی علامت بن جاتی ہیں۔ ایسے ہی رہنماؤں میں شہید

Read More »
Articles

How America Won Independence from Britain, Part-3

Spread the love

Spread the loveآزادی کے بعد نئی ریاست کی تعمیر، آئین کی تشکیل اور مضبوط اداروں کی بنیاد 1783ء میں معاہدۂ پیرس کے ذریعے جب برطانیہ نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کی

Read More »
Articles

How America Won Independence from Britain, Part-4

Spread the love

Spread the loveخانہ جنگی، غلامی کا خاتمہ اور ایک نئے امریکہ کا آغاز..1783ء میں آزادی حاصل کرنے اور اس کے بعد مضبوط آئین، وفاقی نظام اور ریاستی اداروں کی بنیاد

Read More »
Articles

How America Won Independence from Britain, Part-1

Spread the love

Spread the loveدنیا کی تاریخ میں چند ہی ممالک ایسے ہیں جنہوں نے مختصر عرصے میں اپنی قسمت بدل کر عالمی سیاست، معیشت، سائنس اور ٹیکنالوجی پر گہرے اثرات مرتب

Read More »
Articles

How America Won Independence from Britain, Part-2

Spread the love

Spread the loveپہلی قسط میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح برطانیہ کی تیرہ نوآبادیاں آہستہ آہستہ آزادی کی طرف بڑھیں، برطانوی حکومت کی ٹیکس پالیسیوں نے عوام میں بے

Read More »
Articles

How America Won Independence from Britain, Part-6

Spread the love

Spread the loveسرد جنگ، سوویت یونین سے مقابلہ اور عالمی قیادت کی نئی جنگ. دوسری عالمی جنگ 1945ء میں اپنے اختتام کو پہنچی تو دنیا ایک نئے دور میں داخل

Read More »

send your detail