Skip to main content

Shehr-e-Farid

Education: The Key to the Progress of Nations and a Major Challenge and Lesson for Pakistan

Spread the love

تعلیم: قوموں کی ترقی کا راز اور پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلینج اور سبق
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے علم، تحقیق اور تعلیم کو اپنی سب سے بڑی طاقت بنایا، وہ دنیا کی قیادت کرنے لگیں، جبکہ جنہوں نے تعلیم کو نظر انداز کیا، وہ وقت کے ساتھ زوال اور پسماندگی کا شکار ہو گئیں۔ آج کے دور میں کسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کے قدرتی وسائل یا آبادی نہیں بلکہ اس کا تعلیمی نظام، سائنسی تحقیق، ٹیکنالوجی اور ہنر مند افرادی قوت ہوتی ہے۔
اسلامی تہذیب کا سنہری دور اس حقیقت کی روشن مثال ہے۔ بغداد کا بیت الحکمہ، قرطبہ، غرناطہ، دمشق اور دیگر علمی مراکز صدیوں تک دنیا میں علم و تحقیق کے عظیم مراکز رہے۔ یہاں ریاضی، طب، فلکیات، فلسفہ، انجینئرنگ اور دیگر علوم میں ایسی تحقیقات ہوئیں جن سے بعد میں یورپ نے بھی بھرپور استفادہ کیا۔ دنیا کے مختلف علاقوں سے علماء اور طلبہ ان مراکز میں علم حاصل کرنے آتے تھے۔ 1258ء میں منگول حملے کے دوران بغداد کے کئی علمی مراکز کو شدید نقصان پہنچا، لیکن علم کا سفر رکا نہیں۔ بعد ازاں یورپ نے تعلیم، تحقیق اور سائنسی سوچ کو فروغ دیا اور جدید ترقی کی بنیاد رکھی۔
جدید دور میں جاپان نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد اپنی تباہ حال معیشت کو تعلیم، نظم و ضبط، فنی مہارت اور تحقیق کے ذریعے دوبارہ کھڑا کیا۔ چین نے گزشتہ چند دہائیوں میں تعلیم، مصنوعی ذہانت، صنعت اور ٹیکنالوجی پر غیر معمولی سرمایہ کاری کی اور آج دنیا کی بڑی معاشی و سائنسی طاقتوں میں شامل ہے۔ امریکہ نے اپنی عالمی برتری اعلیٰ جامعات، تحقیقی اداروں، خلائی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور اختراع کے ذریعے قائم کی۔ جرمنی نے فنی تعلیم، فرانس نے سائنسی تحقیق، جبکہ ڈنمارک، بیلجیم اور دیگر ترقی یافتہ ممالک نے جدید تعلیمی نظام، ہنر اور تحقیق کو اپنی قومی ترقی کی بنیاد بنایا۔ اسی طرح اسرائیل، محدود رقبے اور آبادی کے باوجود، تعلیم، تحقیق، سائبر سیکیورٹی، زرعی ٹیکنالوجی اور جدید صنعتوں میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ یہ تمام مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ ترقی کا راستہ علم، تحقیق اور جدید تعلیم سے ہو کر گزرتا ہے۔
بدقسمتی سے برصغیر میں نوآبادیاتی دور کا تعلیمی ڈھانچہ زیادہ تر انتظامی ضروریات کو مدنظر رکھ کر تشکیل دیا گیا۔ 1835ء میں لارڈ میکالے کی تعلیمی سفارشات نے ایسے نظام کو فروغ دیا جس میں دفتری امور، امتحانات اور یادداشت کو زیادہ اہمیت دی گئی، جبکہ تحقیق، تنقیدی سوچ، اختراع اور عملی مہارتوں پر نسبتاً کم توجہ رہی۔ آزادی کے تقریباً آٹھ دہائیاں گزرنے کے باوجود پاکستان ابھی تک اس نظام میں بنیادی اور ہمہ گیر اصلاحات کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
آج بھی ہمارے بیشتر تعلیمی اداروں میں رٹہ سسٹم، صرف امتحان پاس کرنے کی سوچ اور بعض جگہوں پر نقل جیسے مسائل موجود ہیں۔ طلبہ ڈگریاں تو حاصل کر لیتے ہیں، مگر عملی زندگی میں کامیابی کے لیے درکار مہارتیں، تخلیقی سوچ، تحقیق، خود اعتمادی اور جدید ٹیکنالوجی سے واقفیت اکثر حاصل نہیں کر پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ بے روزگار ڈگری ہولڈرز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ صنعتوں اور اداروں کو ہنر مند افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے۔
اس کے برعکس ترقی یافتہ ممالک کے نصاب میں آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، مالیاتی تعلیم (Financial Literacy)، کاروباری صلاحیت (Entrepreneurship)، مواصلاتی مہارت (Communication Skills)، قائدانہ صلاحیت، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، تحقیق، اختراع اور عملی تربیت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ وہاں طلبہ دورانِ تعلیم ہی صنعتوں، تحقیقی اداروں اور کاروباری منصوبوں سے منسلک ہو کر عملی تجربہ حاصل کرتے ہیں، جس کی بدولت وہ تعلیم مکمل کرتے ہی ملکی ترقی میں فعال کردار ادا کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔
پاکستان میں اب وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف نصاب کی تبدیلی تک محدود نہ رہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کریں۔ ہمیں ایسا نظامِ تعلیم درکار ہے جو صرف امتحان پاس کرنے والے نہیں بلکہ تحقیق کرنے والے، ہنر مند، بااعتماد، باکردار اور مسائل کا حل پیش کرنے والے نوجوان تیار کرے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو ترقی یافتہ اقوام کی صف میں لا کھڑا کر سکتا ہے۔
پاکستان میں تعلیمی اصلاحات کی ضرورت شاید آج پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ صرف نصاب تبدیل کر دینا کافی نہیں، بلکہ پورے تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت (Teacher Training)، استعدادِ کار میں اضافہ (Capacity Building)، جدید تدریسی طریقوں، ڈیجیٹل مہارتوں، مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) اور نئی ٹیکنالوجی سے آگاہی کو قومی ترجیح بنانا ہوگی، کیونکہ کسی بھی تعلیمی نظام کی کامیابی کا انحصار ایک بہترین استاد پر ہوتا ہے۔
اسی طرح طلبہ کو صرف کتابی علم تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں عملی زندگی کے لیے بھی تیار کیا جائے۔ نصاب میں مالیاتی تعلیم (Financial Literacy)، کاروباری صلاحیت (Entrepreneurship)، آئی ٹی، ڈیجیٹل مہارتیں، مؤثر ابلاغ (Communication Skills)، قائدانہ صلاحیت (Leadership)، ٹیم ورک، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، شخصیت سازی، اخلاقی تربیت، فروخت اور مارکیٹنگ کی بنیادی سمجھ اور مختلف فنی مہارتوں کو شامل کیا جائے تاکہ نوجوان صرف ملازمت تلاش کرنے والے نہ ہوں بلکہ خود بھی روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے قابل بن سکیں۔
جنوبی پنجاب، خصوصاً ضلع راجن پور، تعلیمی لحاظ سے اب بھی نمایاں پسماندگی کا شکار ہے۔ مختلف سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ضلع کی مجموعی شرحِ خواندگی تقریباً 36 سے 42 فیصد کے درمیان ہے، جبکہ مردوں کی شرحِ خواندگی تقریباً 44 سے 56 فیصد اور خواتین کی شرحِ خواندگی تقریباً 28 فیصد کے قریب ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ راجن پور آج بھی لاہور، فیصل آباد، ملتان، راولپنڈی اور اسلام آباد جیسے ترقی یافتہ شہروں سے تعلیمی میدان میں کافی پیچھے ہے۔
ان بڑے شہروں میں طلبہ کو اعلیٰ جامعات، جدید لیبارٹریاں، تحقیقی مراکز، ٹیکنالوجی، تربیت یافتہ اساتذہ اور بہتر تعلیمی ماحول میسر ہے، جبکہ راجن پور کے نوجوان انہی سہولیات سے بڑی حد تک محروم ہیں۔ ایسے حالات میں ان سے یہ توقع کرنا کہ وہ یکساں مقابلہ کریں، عملی طور پر ممکن نہیں۔ مساوی میرٹ اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب مواقع بھی مساوی ہوں۔
راجن پور سے منتخب رکنِ قومی اسمبلی سردار شمشیر علی خان مزاری بھی متعدد مواقع پر قومی اسمبلی میں جنوبی پنجاب، خصوصاً راجن پور کے نوجوانوں کے تعلیمی مسائل، بے روزگاری، اعلیٰ تعلیمی اداروں کی کمی اور ترقیاتی محرومیوں کی جانب توجہ دلاتے رہے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا ہے کہ جب تک پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کو بھی ترقی یافتہ شہروں کے برابر تعلیمی سہولیات اور مواقع فراہم نہیں کیے جائیں گے، اس وقت تک حقیقی میرٹ اور مساوی مقابلے کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔
پاکستان کو اب صرف نئی عمارتیں بنانے کے بجائے معیاری اسکول، جدید جامعات، تحقیقی مراکز، ٹیکنالوجی پارکس، ووکیشنل انسٹی ٹیوٹس اور اسکل ڈویلپمنٹ سینٹرز قائم کرنے ہوں گے۔ تعلیم کو صنعت، زراعت، کاروبار اور جدید معیشت سے جوڑنا ہوگا تاکہ نوجوان تعلیم مکمل کرتے ہی عملی میدان میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
تعلیم صرف ملازمت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک مہذب، باشعور، خودمختار اور ترقی یافتہ قوم کی بنیاد ہے۔ جو قومیں کتاب، قلم، تحقیق، میرٹ اور ہنر کو اپنی طاقت بناتی ہیں، دنیا کی قیادت بھی وہی کرتی ہیں۔
اگر پاکستان واقعی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہونا چاہتا ہے تو اسے تعلیم کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ تعلیم پر سرمایہ کاری میں اضافہ، تحقیق کا فروغ، اساتذہ کی تربیت، جدید نصاب، یکساں تعلیمی مواقع اور ہنر مند نوجوانوں کی تیاری ہی وہ راستہ ہے جو ملک کو معاشی استحکام، سماجی خوشحالی اور عالمی وقار کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ قوموں کا مستقبل ہتھیاروں سے نہیں بلکہ تعلیمی اداروں، اساتذہ، کتابوں، تحقیق، ہنر، کردار اور شعور سے بنتا ہے۔ جو قومیں علم کو عزت دیتی ہیں، دنیا بھی عزت، ترقی اور قیادت انہی قوموں کے حصے میں لکھتی ہے۔ آج اگر ہم نے تعلیم کو اپنی پہلی ترجیح بنا لیا تو آنے والی نسلیں ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کی وارث ہوں گی۔

send your detail