Skip to main content

Shehr-e-Farid

Harrand Fort (3)

Harrand Fort Rajanpur

Spread the love

قلعہ ہڑند - راجن پور کی قدیم تاریخی فصیل

تاریخ اور تعارف 

قلعہ ہڑند ضلع راجن پور کے تاریخی ورثے کی ایک اہم علامت ہے۔ یہ قلعہ ہڑند کے قریب، داجل کے مغرب میں، سلیمان پہاڑی سلسلے کے دامن میں واقع ہے۔ قلعہ ایک بلند قدرتی ٹیلے پر تعمیر کیا گیا ہے اور اس کا محلِ وقوع اسے قدیم زمانے میں ایک اہم دفاعی اور فوجی مرکز بناتا تھا۔ اسکا کُل رقبہ 90 ایکڑ ہے۔

محکمہ آثارِ قدیمہ، حکومتِ پاکستان کے مطابق قلعہ ہڑند ایک تقریباً گول شکل کا قلعہ ہے جس میں 16 برج موجود ہیں۔ اور مشرق اور مغربی سمتوں میں دو بڑے داخلی راستے ہیں۔ اسے پنجاب کے محفوظ تاریخی مقامات میں شامل کیا گیا ہے۔

اس علاقے کا جغرافیہ نہایت اہم ہے۔ ایک طرف سلیمان پہاڑ ہیں جبکہ دوسری طرف دریائے سندھ کا وسیع میدانی علاقہ ہے۔ قدیم زمانے میں یہاں سے گزرنے والے راستے بلوچستان، افغانستان، ایران اور دریائے سندھ کے میدانوں کو آپس میں ملاتے تھے۔

اسی وجہ سے ہڑند کا مقام صرف ایک آبادی نہیں بلکہ ایک قدیم فوجی چوکی اور گزرگاہ کے طور پر بھی اہم رہا۔

قلعہ ہڑند کا قدیم پس منظر

قلعہ ہڑند کی اصل تعمیر کے بارے میں مختلف روایات موجود ہیں۔

مقامی روایت کے مطابق یہاں ایک قدیم قلعہ ہندو راجہ ہرناکش نے تعمیر کروایا تھا اور اس کا نام اپنے بیٹے ہری نند کے نام پر رکھا گیا، جو وقت کے ساتھ بدل کر ہڑند بن گیا۔

تاہم اس روایت کو قطعی تاریخی حقیقت کے طور پر بیان کرنا مناسب نہیں، کیونکہ اس بارے میں مستند آثارِ قدیمہ کے شواہد محدود ہیں۔

حکومتِ پنجاب کے ضلعی تاریخی ریکارڈ میں بھی قلعہ ہڑند کے بارے میں قدیم روایات بیان کی گئی ہیں، لیکن ساتھ ہی اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ اس خطے کی بہت سی قدیم روایات ابھی مزید تحقیق کی محتاج ہیں۔

آثارِ قدیمہ کیا بتاتے ہیں؟

قدیم قلعے کی اصل تاریخ کے بارے میں روایات سے ہٹ کر آثارِ قدیمہ ایک زیادہ محتاط تصویر پیش کرتے ہیں۔

محکمہ آثارِ قدیمہ کے سرکاری ریکارڈ میں قلعہ ہڑند کو تاریخی دور سے منسوب کیا گیا ہے اور اس کی نسبتاً زمانی درجہ بندی 1206ء سے 1526ء کے درمیان دی گئی ہے۔ سطحی آثار میں ملنے والے برتنوں اور دیگر باقیات سے بھی اس علاقے میں 15ویں اور 16ویں صدی کے دوران آبادی یا سرگرمی کے شواہد ملتے ہیں۔ اس لیے ویب سائٹ پر یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ:

موجودہ قلعے سے پہلے بھی اس مقام پر قدیم آبادی اور دفاعی تعمیرات کے آثار موجود تھے، جبکہ موجودہ اینٹوں کا قلعہ بعد کے دور میں دوبارہ تعمیر کیا گیا۔

سکندرِ اعظم اور ہڑند — روایت یا تاریخ؟

ہڑند کے ساتھ سکندرِ اعظم کا نام بھی مقامی روایات اور بعض تاریخی داستانوں میں ملتا ہے۔

ایک مشہور روایت کے مطابق سکندرِ اعظم ہندوستان کی مہم کے دوران اس علاقے سے گزرا اور ہڑند کے قلعے میں قیام کیا۔ ایک اور داستان میں مقامی حکمران کی بیٹی نوشابہ کا ذکر ملتا ہے اور سکندر کے ساتھ اس کی ملاقات اور شادی کی کہانی بیان کی جاتی ہے۔

یہ داستان فارسی ادبی روایت، خصوصاً سکندرنامہ، سے بھی جوڑی جاتی ہے۔

تاہم جدید تاریخی تحقیق اس واقعے کو قطعی تاریخی حقیقت تسلیم نہیں کرتی۔ اس لیے اسے مقامی تاریخی روایت/داستان کے طور پر پیش کرنا زیادہ مناسب ہے، نہ کہ ثابت شدہ واقعہ۔

مسلمانوں کے دور میں ہڑند

ہڑند کا جغرافیائی محلِ وقوع اسے مختلف ادوار میں اہم بناتا رہا۔

دریائے سندھ کے مغربی کنارے، سلیمان پہاڑوں اور بلوچستان کی طرف جانے والی گزرگاہوں کے قریب ہونے کی وجہ سے یہ علاقہ فوجی نقل و حرکت اور تجارتی راستوں کے لیے اہم تھا۔

مقامی تاریخی روایات میں عرب افواج اور محمد بن قاسم کے دور سے بھی ہڑند کو جوڑا جاتا ہے۔ راجن پور ضلعی ریکارڈ میں عرب دور سے متعلق بعض روایات، عربی تحریروں والے سکوں اور ٹائلوں کا ذکر بھی ملتا ہے، لیکن ان روایات کو حتمی تاریخی ثبوت کے طور پر قبول کرنے سے پہلے مزید آثارِ قدیمہ کی تحقیق ضروری ہے۔

سکھ دور اور دیوان ساون مل

قلعہ ہڑند کی موجودہ عمارت کی تاریخ میں دیوان ساون مل کا دور انتہائی اہم ہے۔

انیسویں صدی کے اوائل میں سکھ حکومت نے اس علاقے کی فوجی اہمیت کو محسوس کیا۔ سکھ گورنرِ ملتان دیوان ساون مل نے پرانے قلعے کی جگہ یا اس کے قریب موجود قدیم دفاعی تعمیر کو مضبوط کیا اور موجودہ اینٹوں کے قلعے کی تعمیر نو کروائی۔

ایک تاریخی رپورٹ کے مطابق موجودہ قلعہ 1836ء میں ساون مل دور میں تعمیر ہوا جبکہ اس مقام پر پہلے ایک قدیم قلعہ موجود ہے۔

قلعے کی تعمیر کا ایک اہم مقصد اس علاقے میں سکھ کی حکومت کی فوج کو مضبوط کرنا اور اس کے خلاف جدوجہد کرنے والے افراد سے مقابلہ کرنا ہے۔

ہڑند قلعے کی تعمیر اور فنِ تعمیر

ہڑند قلعے کا موجودہ ڈھانچہ اپنے منفرد دفاعی ڈیزائن کی وجہ سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔

محکمہ آثارِ قدیمہ کے مطابق

یہ قلعہ تقریباً گول شکل کا ہے۔

اس میں 16 مضبوط برج موجود ہیں۔

ان برجوں کے درمیان فاصلہ تقریباً 56 میٹر ہے۔

قلعے کے مشرقی اور مغربی اطراف میں دو بڑے دروازے ہیں۔

یہ قلعہ چھوٹی پختہ اینٹوں اور مٹی یا چونے کے مسالےسے تعمیر کیا گیا تھا۔

مرکزی دروازہ تقریباً 4.35 میٹر چوڑا اور تقریباً 4 میٹر اونچا ہے۔

اربن یونٹ کے مطابق، قلعے کا اندرونی حصہ مشرق سے مغرب تک تقریباً 350 فٹ اور شمال سے جنوب تک 310 فٹ پر محیط ہے۔

قلعے کی بیرونی دیوار تقریباً 7 فٹ موٹی ہے اور بعض مقامات پر اس کی اونچائی تقریباً 22 فٹ تک پہنچتی ہے۔ اس کی دفاعی دیواروں کو 16 برجوں کے ذریعے مزید مضبوط بنایا گیا تھا۔

برطانوی دور میں قلعہ ہڑند

1849 میں پنجاب پر برطانوی قبضے کے بعد ہڑند بھی برطانوی انتظامی و فوجی نظام کا حصہ بن گیا

قلعہ ہڑند کو برطانوی دور میں ایک فوجی اور انتظامی چوکی کے طور پر استعمال کیا گیا۔ برطانوی دور کی بعض تعمیرات، جن میں مسجد اور پولیس/چیک پوسٹ سے متعلق باقیات شامل ہیں، قلعے کے تاریخی استعمال کے مختلف ادوار کی نشاندہی کرتی ہیں۔

انیسویں صدی کے برطانوی جغرافیائی ریکارڈ میں بھی ہڑند قلعے کو ایک نمایاں فوجی قلعے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ 1870ء کی دہائی کے ریکارڈ میں اس کے 16 رخوں، برجوں اور مضبوط دیواروں کا ذکر ملتا ہے۔

قلعہ ہڑند اور قبائلی سرحد

ہڑند کی ایک بڑی اہمیت اس کا سلیمان پہاڑوں اور قبائلی علاقوں کے قریب ہونا تھا۔

یہ خطہ صدیوں تک مختلف قبائل، مقامی حکمرانوں، فوجی طاقتوں اور تجارتی قافلوں کے درمیان رابطے کا علاقہ رہا۔

قلعہ ایک ایسی جگہ پر واقع تھا جہاں سے پہاڑی راستوں اور میدانی علاقوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکتی تھی۔

اسی وجہ سے سکھ اور بعد میں برطانوی حکومت نے بھی اسے ایک اہم دفاعی مرکز کے طور پر استعمال کیا۔

 موجودہ حالت

وقت گزرنے کے ساتھ قلعہ ہڑند کا بڑا حصہ خستہ حالی کا شکار ہوگیا ہے۔

ماضی میں قلعے کے کچھ حصے فوجی، پولیس یا دیگر سرکاری مقاصد کے لیے استعمال ہوتے رہے، جس کی وجہ سے چند حصے نسبتاً محفوظ رہے جبکہ باقی حصے قدرتی عوامل اور عدم دیکھ بھال سے متاثر ہوئے۔

یہ قلعہ آج بھی راجن پور کے اہم تاریخی مقامات میں شمار ہوتا ہے اور پنجاب حکومت کے محفوظ تاریخی مقامات میں شامل ہے۔

 اسے Punjab Special Premises (Preservation) Ordinance, 1985 کے تحت تحفظ حاصل ہے۔

ہڑند قلعہ — راجن پور کے سیاحتی ورثے کا حصہ

راجن پور صرف دریائے سندھ، سلیمان پہاڑوں اور صوفی روایت کی وجہ سے اہم نہیں بلکہ یہاں کئی ایسے تاریخی مقامات بھی موجود ہیں جو ابھی تک بڑے پیمانے پر دنیا کے سامنے نہیں آسکے۔

قلعہ ہڑند ان میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔

اگر قلعے کی باقاعدہ بحالی، صفائی، تاریخی تحقیق، معلوماتی بورڈز، گائیڈ سروس اور سیاحتی سہولیات فراہم کی جائیں تو یہ مقام راجن پور کے اہم تاریخی و ثقافتی سیاحتی مراکز میں شامل ہوسکتا ہے۔

ایک تاریخی ورثہ، جسے محفوظ کرنا ضروری ہے

قلعہ ہڑند آج اگرچہ اپنے شاندار ماضی کی طرح مکمل حالت میں موجود نہیں، لیکن اس کی باقی ماندہ دیواریں، برج اور دروازے اب بھی صدیوں پر محیط تاریخ کی داستان سناتے ہیں۔

یہ قلعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ راجن پور کی سرزمین صرف موجودہ دور کی آبادیوں کا نام نہیں بلکہ یہاں مختلف تہذیبوں، حکمرانوں، فوجوں، قبائل اور مسافروں نے اپنے نقوش چھوڑے ہیں۔

قلعہ ہڑند راجن پور کا ایک ایسا تاریخی ورثہ ہے جسے آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

Popular and trending read

Find out most popular and trending Urdu books right here.

KPK Council
News

Newly Formed KPK Advisory Council

Spread the love

Spread the loveHere is a breakdown of who is part of the council and what portfolio they have been assigned. Kifayatullah Khan Khan has been tasked with overseeing the provincial

Read More »
Harrand Fort (3)
Historical Sites

Harrand Fort Rajanpur

Spread the love

Spread the loveقلعہ ہڑند – راجن پور کی قدیم تاریخی فصیل تاریخ اور تعارف  قلعہ ہڑند ضلع راجن پور کے تاریخی ورثے کی ایک اہم علامت ہے۔ یہ قلعہ ہڑند

Read More »
Suthra Punjab
District Rajanpur

Suthra Punjab Issues

Spread the love

Spread the loveراجن پور شہر میں صفائی ستھرائی کا نظام مؤثر بنانے کے لیے فوری اقدامات شروع ڈپٹی کمشنر راجن پور عمران حسین رانجھا کی میڈیا نمائندگان سے گفتگو، شہر

Read More »
Media
District Rajanpur

Meeting with Media Representative

Spread the love

Spread the loveڈپٹی کمشنر راجن پور عمران حسین رانجھا نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ راجن پور شہر میں صفائی ستھرائی کے نظام کو مؤثر بنانے

Read More »
Khwaja Noor Muhammad Narowala
Biography

HAZRAT KHWAJA NOOR MUHAMMAD NAROWALA

Spread the love

Spread the loveحضرت خواجہ نور محمد نارووالہ رحمۃ اللہ علیہ نام و نسب: اسم گرامی: شیخ نور محمد نارووالہ تحصیل علم: آپ اپنے وقت کے بہت بڑے عالم تھے۔ حضرت

Read More »

send your detail