سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ معاشرے کی خاموش خدمت کا مضبوط ستون
معاشرہ صرف سڑکوں، عمارتوں اور ترقیاتی منصوبوں سے مضبوط نہیں ہوتا بلکہ اس کی اصل طاقت اس کے کمزور، نادار، یتیم، بے سہارا، خصوصی افراد، خواتین اور بزرگ شہریوں کی فلاح میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب کوئی ریاست اپنے محروم طبقات کی دیکھ بھال کو ترجیح دیتی ہے تو وہ حقیقی معنوں میں ایک فلاحی ریاست بن جاتی ہے۔ پاکستان میں یہی اہم ذمہ داری سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ ادا کر رہا ہے، جو خاموشی کے ساتھ معاشرے کے ایسے طبقات کی خدمت میں مصروف ہے جن کی آواز اکثر ایوانوں تک نہیں پہنچ پاتی۔
سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ بظاہر ایک سرکاری محکمہ ضرور ہے، مگر حقیقت میں یہ انسانیت، خدمت اور سماجی بہتری کا ایک ایسا ادارہ ہے جو معاشرے کے ٹوٹے ہوئے طبقات کو سہارا دینے کا کام کرتا ہے۔ اس محکمہ کے دائرہ کار میں یتیم بچوں کی کفالت، خصوصی افراد کی بحالی، خواتین کی فلاح، منشیات سے متاثرہ افراد کی مدد، بزرگ شہریوں کی دیکھ بھال، چائلڈ پروٹیکشن، بھکاری مافیا کے خلاف اقدامات، این جی اوز کی رجسٹریشن اور نگرانی، اور سماجی بہبود کے درجنوں منصوبے شامل ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ صرف انہی اداروں کو اہم سمجھتے ہیں جن کے پاس بھاری مشینری، بڑے بجٹ یا سیاسی طاقت ہو، جبکہ سوشل ویلفیئر جیسے محکمے خاموشی سے انسانی خدمت کا وہ فریضہ سرانجام دیتے ہیں جس کی اصل اہمیت کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ جب کوئی یتیم بچہ تعلیم حاصل کرتا ہے، کوئی بے سہارا خاتون اپنے پاؤں پر کھڑی ہوتی ہے، کوئی خصوصی فرد ہنر سیکھ کر روزگار کماتا ہے، یا کسی غریب خاندان کی بیٹی کی عزت کے ساتھ شادی ہوتی ہے، تو اس کے پیچھے اکثر سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ اور اس سے منسلک فلاحی اداروں کی کوششیں شامل ہوتی ہیں۔
آج کے دور میں سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، غربت، خاندانی مسائل، ذہنی دباؤ، منشیات، گھریلو تشدد، بچوں سے زیادتی، اور معاشرتی بے چینی جیسے مسائل نے معاشرے میں نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ ایسے حالات میں صرف قانون نافذ کرنے والے ادارے کافی نہیں ہوتے بلکہ ایک ایسا سماجی نظام بھی ضروری ہوتا ہے جو لوگوں کو سہارا دے، ان کی رہنمائی کرے اور انہیں دوبارہ معاشرے کا مفید شہری بنائے۔ یہی کردار سوشل ویلفیئر ادا کر رہا ہے۔
خصوصی افراد کی بحالی کے حوالے سے بھی یہ محکمہ اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ وہ افراد جو جسمانی یا ذہنی معذوری کا شکار ہیں، ان کے لیے تربیتی مراکز، بحالی پروگرام، خصوصی تعلیم، فنی تربیت اور مالی معاونت جیسے اقدامات معاشرے میں امید کی نئی کرن پیدا کرتے ہیں۔ ایک مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جو اپنے کمزور افراد کو بوجھ نہیں بلکہ اپنی ذمہ داری سمجھے۔
اسی طرح خواتین کی فلاح کے میدان میں بھی سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔ گھریلو تشدد کا شکار خواتین، بے سہارا عورتیں، بیوائیں اور معاشی مشکلات کا شکار خواتین کے لیے مختلف فلاحی پروگرام، ہنر سکھانے کے مراکز اور قانونی معاونت کے اقدامات نہ صرف ان کی زندگی بدلتے ہیں بلکہ پورے خاندان کو مضبوط بناتے ہیں۔ جب ایک عورت بااختیار بنتی ہے تو درحقیقت ایک پورا خاندان مضبوط ہوتا ہے۔
این جی اوز اور فلاحی اداروں کی رجسٹریشن اور نگرانی بھی سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ آج ہزاروں فلاحی تنظیمیں معاشرے میں کام کر رہی ہیں، لیکن ان کی شفافیت، کارکردگی اور قانونی حیثیت کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ ایک پل کا کردار ادا کرتا ہے تاکہ عوام کا اعتماد برقرار رہے اور فلاحی سرگرمیاں منظم انداز میں جاری رہیں۔
قدرتی آفات اور ہنگامی حالات میں بھی سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ فرنٹ لائن پر نظر آتا ہے۔ سیلاب، زلزلے، ہیٹ ویو، بارشوں اور دیگر ڈیزاسٹرز کے دوران متاثرہ خاندانوں کی مدد، راشن کی تقسیم، عارضی رہائش، اور نفسیاتی معاونت جیسے اقدامات اس محکمہ کی حساسیت اور عملی کردار کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ صرف امداد نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کا جذبہ ہے۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کو آج بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے۔ محدود وسائل، کم بجٹ، عملے کی کمی، عوامی آگاہی کا فقدان، اور بعض اوقات سیاسی یا انتظامی رکاوٹیں اس کے کام کو متاثر کرتی ہیں۔ اس کے باوجود اگر یہ محکمہ بہتر انداز میں کام کر رہا ہے تو اس کے پیچھے ان افسران اور ملازمین کی محنت شامل ہے جو خاموشی سے انسانی خدمت کا مشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کو مزید وسائل فراہم کرے، جدید ٹیکنالوجی سے جوڑے، فیلڈ ورک کو مضبوط بنائے، اور نوجوانوں کو رضاکارانہ خدمات کی طرف راغب کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ میڈیا، سول سوسائٹی اور عوام کو بھی چاہیے کہ وہ اس محکمہ کی مثبت سرگرمیوں کو اجاگر کریں تاکہ معاشرے میں خدمت کے جذبے کو فروغ مل سکے۔
ایک فلاحی معاشرہ صرف نعروں سے نہیں بنتا بلکہ عملی اقدامات سے تشکیل پاتا ہے۔ اگر ہم واقعی ایک مضبوط، پرامن اور خوشحال پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں سوشل ویلفیئر جیسے اداروں کو مضبوط کرنا ہوگا۔ کیونکہ یہی وہ ادارے ہیں جو انسان کو انسان سے جوڑتے ہیں، محروموں کو سہارا دیتے ہیں اور معاشرے میں امید، ہمدردی اور انسانیت کا چراغ روشن رکھتے ہیں۔
“سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی موجودہ کارکردگی میں میڈیم تہمینہ دلشاد ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیر راجن پور جیسی متحرک، باصلاحیت اور انسان دوست شخصیت کی خدمات بھی نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔ وہ نہ صرف ایک قابل آفیسر کے طور پر اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھا رہی ہیں بلکہ ان کے اندر دکھی انسانیت کی خدمت کا جذبہ بھی قابلِ تحسین ہے۔ ان کی قیادت میں مختلف سرکاری اداروں، فلاحی تنظیموں اور این جی اوز کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کو فروغ ملا، جس کے نتیجے میں مستحق افراد تک سہولیات کی فراہمی مزید بہتر ہوئی۔ خصوصی افراد کے لیے ویل چیئرز، معاون آلات، اسکوٹیز، ہمت کارڈز اور بحالی پروگراموں کی فراہمی میں ان کی ذاتی دلچسپی واضح طور پر نظر آتی ہے۔
تہمینہ دلشاد اپنے عملے اور ماتحت افراد کے ساتھ خوش اخلاقی، نرم رویے اور بہترین انتظامی صلاحیتوں کی وجہ سے بھی پہچانی جاتی ہیں۔ وہ صرف دفتری امور تک محدود نہیں بلکہ فیلڈ میں جا کر عوامی مسائل سننے اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کرنے پر یقین رکھتی ہیں۔ ان کا ویژن یہ ہے کہ سوشل ویلفیئر کا ہر منصوبہ حقیقی معنوں میں غریب، بے سہارا اور محروم طبقے تک پہنچے تاکہ معاشرے میں احساسِ محرومی کم ہو اور انسانیت کا رشتہ مزید مضبوط ہو۔ بلاشبہ ان جیسی افسران محکمہ سوشل ویلفیئر کا قیمتی اثاثہ اور خدمتِ انسانیت کی روشن مثال ہیں۔”