Skip to main content

Shehr-e-Farid

How America Won Independence from Britain, Part-5

Spread the love

Part-5

 

پہلی عالمی جنگ، عالمی سیاست میں امریکہ کا ابھرتا ہوا کردار اور معاشی طاقت کی ابتدا .
انیسویں صدی کے اختتام تک امریکہ ایک مضبوط صنعتی اور معاشی طاقت بن چکا تھا۔ خانہ جنگی کے بعد تعمیرِ نو، صنعتوں کا قیام، ریلوے کے وسیع جال، زرعی ترقی، تعلیم، تحقیق اور نئی ایجادات نے اس کی معیشت کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا تھا۔ اگرچہ امریکہ ابھی تک زیادہ تر اپنی داخلی ترقی پر توجہ دے رہا تھا، لیکن دنیا تیزی سے ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی تھی جہاں عالمی سیاست، عالمی تجارت اور بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلہ شدت اختیار کر رہا تھا۔
بیسویں صدی کے آغاز میں یورپ کی بڑی سلطنتیں، خصوصاً برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور آسٹریا۔ہنگری، سیاسی اور عسکری رقابت میں الجھ چکی تھیں۔ نوآبادیات پر قبضے، اسلحے کی دوڑ اور باہمی اتحادوں نے دنیا کو ایک بڑی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ بالآخر 1914ء میں پہلی عالمی جنگ شروع ہو گئی۔ ابتدا میں امریکہ نے غیر جانبدار رہنے کی پالیسی اختیار کی، کیونکہ اس کا خیال تھا کہ یہ یورپی طاقتوں کا تنازع ہے اور اسے اس میں براہِ راست مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
اگرچہ امریکہ میدانِ جنگ سے دور تھا، لیکن اس کی معیشت اس جنگ سے براہِ راست متاثر ہونے لگی۔ یورپی ممالک کو خوراک، اسلحہ، مشینری، کپڑا اور دیگر سامان کی بڑی مقدار درکار تھی، اور امریکہ ان اشیا کا سب سے بڑا فراہم کنندہ بنتا چلا گیا۔ امریکی صنعتوں کو بے شمار آرڈر ملنے لگے، فیکٹریاں دن رات کام کرنے لگیں، روزگار میں اضافہ ہوا اور امریکی معیشت پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہونے لگی۔
تاہم حالات زیادہ دیر تک غیر جانبدار نہ رہ سکے۔ جرمنی کی آبدوزوں نے بحرِ اوقیانوس میں کئی تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا، جن میں امریکی شہری بھی ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ جرمنی کی بعض سفارتی سرگرمیوں نے بھی امریکہ میں تشویش پیدا کی۔ ان واقعات کے بعد امریکی عوام کی رائے تبدیل ہونے لگی، اور صدر ووڈرو ولسن نے کانگریس سے جنگ میں شامل ہونے کی اجازت طلب کی۔
اپریل 1917ء میں امریکہ باضابطہ طور پر پہلی عالمی جنگ میں اتحادی طاقتوں کی جانب سے شامل ہو گیا۔ اگرچہ امریکہ نسبتاً دیر سے جنگ میں داخل ہوا، لیکن اس کی صنعتی طاقت، مالی وسائل اور تازہ دم فوجی دستوں نے جنگ کا توازن بدل دیا۔ امریکی افواج نے یورپ میں اتحادی ممالک کا حوصلہ بلند کیا، جبکہ امریکی صنعت مسلسل اسلحہ، گاڑیاں، خوراک اور دیگر سامان فراہم کرتی رہی۔
1918ء میں جنگ اپنے اختتام کو پہنچی اور جرمنی سمیت مرکزی طاقتوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس جنگ نے نہ صرف یورپ کا سیاسی نقشہ بدل دیا بلکہ عالمی طاقتوں کے توازن کو بھی تبدیل کر دیا۔ برطانیہ اور فرانس اگرچہ فاتح تھے، لیکن وہ معاشی طور پر کمزور ہو چکے تھے، جبکہ امریکہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط معیشت، جدید صنعت اور بڑے مالی وسائل کے ساتھ دنیا کے سامنے ابھر رہا تھا۔
جنگ کے بعد صدر ووڈرو ولسن نے دنیا میں پائیدار امن کے لیے لیگ آف نیشنز (League of Nations) کا تصور پیش کیا۔ اگرچہ بعد میں امریکہ خود اس تنظیم کا مستقل رکن نہ بن سکا، لیکن اس اقدام سے یہ واضح ہو گیا کہ اب امریکہ صرف ایک علاقائی طاقت نہیں رہا بلکہ عالمی سیاست میں بھی اہم کردار ادا کرنے لگا ہے۔
پہلی عالمی جنگ نے امریکہ کو ایک اہم سبق دیا۔ اس نے محسوس کیا کہ مضبوط معیشت، جدید صنعت، سائنسی ترقی اور قومی اتحاد صرف داخلی خوشحالی ہی نہیں بلکہ عالمی اثرورسوخ کا بھی ذریعہ بنتے ہیں۔ یہی تجربہ بعد میں دوسری عالمی جنگ اور اس کے بعد کے عالمی نظام میں امریکہ کے کردار کی بنیاد بنا۔
عظیم معاشی بحران روزویلٹ کی قیادت اور
پہلی عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معاشی طاقت بن چکا تھا۔ اس کی صنعتیں مسلسل ترقی کر رہی تھیں، بینکنگ کا نظام مضبوط ہو رہا تھا، نئی فیکٹریاں قائم ہو رہیb تھیں اور امریکی معیشت کو غیر معمولی وسعت مل رہی تھی۔ 1920ء کی دہائی کو اکثر امریکی تاریخ میں خوشحالی کا دور قرار دیا جاتا ہے، لیکن اس ترقی کے پیچھے بعض ایسی معاشی کمزوریاں بھی موجود تھیں جو وقت کے ساتھ ایک بڑے بحران میں تبدیل ہو گئیں۔
24 اکتوبر 1929ء کو نیویارک اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی آئی، جسے تاریخ میں “بلیک تھرسڈے” (Black Thursday) کہا جاتا ہے۔ چند ہی دنوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ختم ہو گئی، ہزاروں کاروبار تباہ ہو گئے، سینکڑوں بینک بند ہو گئے اور لاکھوں افراد بے روزگار ہو گئے۔ یہ صرف امریکہ کا بحران نہیں تھا بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا تک پھیل گئے۔ اسی لیے اسے عظیم معاشی بحران (Great Depression) کہا جاتا ہے۔
اس بحران نے امریکی قوم کو ایک بار پھر یہ احساس دلایا کہ صرف صنعت اور سرمایہ کافی نہیں ہوتے، بلکہ مضبوط معاشی پالیسیاں، مؤثر ریاستی ادارے اور بروقت حکومتی فیصلے بھی ضروری ہوتے ہیں۔ ملک میں غربت بڑھ گئی، بے روزگاری خطرناک حد تک پہنچ گئی اور بے شمار خاندانوں کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
1933ء میں فرینکلن ڈی روزویلٹ امریکہ کے صدر منتخب ہوئے۔ انہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے ایک وسیع اصلاحاتی پروگرام شروع کیا، جسے “نیو ڈیل (New Deal)” کہا جاتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت حکومت نے بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبے شروع کیے، سڑکیں، پل، ڈیم اور سرکاری عمارتیں تعمیر کی گئیں، لاکھوں افراد کو روزگار ملا، بینکاری کے نظام میں اصلاحات کی گئیں اور کسانوں و مزدوروں کی مدد کے لیے نئے قوانین متعارف کرائے گئے۔
اگرچہ تمام مسائل فوری طور پر حل نہیں ہوئے، لیکن ان اصلاحات نے امریکی معیشت کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا شروع کر دیا۔ عوام کا اعتماد بحال ہوا، صنعتوں نے دوبارہ ترقی کرنا شروع کی اور ریاستی ادارے پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئے۔ یہ وہ تجربہ تھا جس نے امریکہ کو یہ سکھایا کہ مشکل ترین معاشی بحرانوں سے بھی مضبوط قیادت، مؤثر منصوبہ بندی اور قومی اتحاد کے ذریعے نکلا جا سکتا ہے۔
اسی دوران یورپ اور ایشیا میں ایک بار پھر جنگ کے بادل منڈلانے لگے۔ جرمنی میں ایڈولف ہٹلر کی قیادت میں نازی حکومت تیزی سے طاقتور ہو رہی تھی۔ اٹلی میں بینیٹو مسولینی کی فاشسٹ حکومت اور ایشیا میں جاپان کی توسیع پسندانہ پالیسیوں نے عالمی امن کو شدید خطرے میں ڈال دیا۔ 1939ء میں جرمنی کے پولینڈ پر حملے کے بعد دوسری عالمی جنگ شروع ہو گئی۔
ابتدا میں امریکہ نے ایک مرتبہ پھر براہِ راست جنگ میں شامل ہونے سے گریز کیا، لیکن اس نے برطانیہ، چین اور بعد میں سوویت یونین کو اسلحہ، مالی امداد اور دیگر ضروری سامان فراہم کرنا شروع کر دیا۔ صدر روزویلٹ کا خیال تھا کہ اگر جارح طاقتوں کو نہ روکا گیا تو یہ خطرہ بالآخر امریکہ تک بھی پہنچ سکتا ہے۔
جنگ ابھی یورپ اور ایشیا تک محدود تھی، لیکن جلد ہی ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے امریکہ کو براہِ راست دوسری عالمی جنگ میں داخل ہونے پر مجبور کر دیا۔ یہ واقعہ نہ صرف امریکی تاریخ بلکہ پوری دنیا کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا، کیونکہ اس کے بعد عالمی طاقتوں کا توازن ہمیشہ کے لیے بدل گیا۔
دوسری عالمی جنگ، اقوامِ متحدہ، ڈالر کی طاقت اور سپر پاور امریکہ کا آغاز
7 دسمبر 1941ء کو جاپان نے امریکی بحری اڈے پرل ہاربر پر اچانک حملہ کر دیا۔ اس حملے میں متعدد جنگی جہاز تباہ ہوئے، ہزاروں امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے اور پورا امریکہ شدید صدمے میں آ گیا۔ اگلے ہی روز امریکہ نے جاپان کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا، جبکہ چند ہی دن بعد جرمنی اور اٹلی نے بھی امریکہ کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔ یوں امریکہ باقاعدہ طور پر دوسری عالمی جنگ کا حصہ بن گیا۔
جنگ میں شامل ہونے کے بعد امریکہ نے اپنی بے مثال صنعتی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ ہزاروں فیکٹریاں جنگی پیداوار میں مصروف ہو گئیں۔ ٹینک، جنگی طیارے، بحری جہاز، اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر ضروری سامان بڑی مقدار میں تیار کیا جانے لگا۔ لاکھوں نوجوان فوج میں شامل ہوئے، جبکہ خواتین نے بھی کارخانوں، اسپتالوں اور دیگر قومی خدمات میں اہم کردار ادا کیا۔ چند ہی برسوں میں امریکہ اتحادی افواج کی سب سے بڑی عسکری اور صنعتی طاقت بن گیا۔
امریکی افواج نے یورپ، شمالی افریقہ اور بحرالکاہل کے محاذوں پر برطانیہ، فرانس، سوویت یونین اور دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ 1944ء میں ڈی ڈے (D-Day) کے نام سے مشہور نارمنڈی پر اتحادی افواج کی لینڈنگ نے مغربی یورپ کی آزادی کی راہ ہموار کی، جبکہ بحرالکاہل میں جاپان کے خلاف شدید لڑائیاں جاری رہیں۔
مئی 1945ء میں جرمنی نے ہتھیار ڈال دیے، لیکن جاپان نے مزاحمت جاری رکھی۔ اگست 1945ء میں امریکہ نے جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر یکے بعد دیگرے ایٹم بم گرائے۔ ان حملوں میں بے شمار شہری ہلاک ہوئے اور تباہی کی ہولناک مثال قائم ہوئی۔ چند دن بعد جاپان نے بھی ہتھیار ڈال دیے اور دوسری عالمی جنگ اپنے اختتام کو پہنچی۔ آج بھی ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال پر دنیا بھر میں اخلاقی، قانونی اور تاریخی بحث جاری ہے، تاہم اس جنگ کے خاتمے نے عالمی طاقتوں کے توازن کو بنیادی طور پر بدل دیا۔
جنگ کے بعد یورپ اور ایشیا کے کئی ممالک شدید تباہی کا شکار تھے، جبکہ امریکہ کی صنعت، معیشت اور مالیاتی نظام پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکا تھا۔ اسی دور میں امریکہ نے عالمی تعمیرِ نو اور معاشی استحکام کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ 1944ء میں بریٹن ووڈز کے معاہدوں کے نتیجے میں ایک نیا عالمی مالیاتی نظام تشکیل پایا، جس میں امریکی ڈالر کو مرکزی حیثیت حاصل ہوئی۔ بعد ازاں عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) جیسے ادارے بھی وجود میں آئے، جن کا مقصد عالمی معاشی تعاون کو فروغ دینا تھا۔
1945ء میں اقوامِ متحدہ (United Nations) کا قیام عمل میں آیا تاکہ مستقبل میں عالمی تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے اور ایک اور عالمی جنگ سے بچنے کی کوشش کی جائے۔ امریکہ اس تنظیم کے بانی ممالک میں شامل تھا اور اس نے عالمی سفارت کاری میں اہم کردار ادا کیا۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ کی معیشت دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن کر ابھری۔ اس کی صنعتیں پوری دنیا کو سامان فراہم کر رہی تھیں، ڈالر بین الاقوامی تجارت اور مالیاتی لین دین کی بنیادی کرنسی بنتا جا رہا تھا، اور امریکی جامعات، تحقیقی ادارے اور سائنسی مراکز نئی ایجادات میں نمایاں مقام حاصل کر رہے تھے۔ یہی وہ دور تھا جب امریکہ صرف ایک طاقتور ملک نہیں رہا بلکہ عالمی نظام کی تشکیل میں بھی مرکزی کردار ادا کرنے لگا۔
تاہم اسی زمانے میں ایک نئی عالمی کشمکش نے جنم لیا۔ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ اور سوویت یونین دو بڑی طاقتوں کے طور پر سامنے آئے۔ دونوں کے سیاسی، معاشی اور نظریاتی نظام ایک دوسرے سے مختلف تھے، اور یہی اختلافات بعد میں سرد جنگ (Cold War) کی شکل اختیار کر گئے۔ آنے والی کئی دہائیوں تک دنیا کی سیاست، معیشت، سائنس، خلائی تحقیق اور عسکری حکمتِ عملی اسی مقابلے کے گرد گھومتی رہی۔
یہی سرد جنگ، سائنسی ترقی، خلائی دوڑ، جدید ٹیکنالوجی، مضبوط جامعات، تحقیق، آزاد معیشت اور عالمی سفارت کاری وہ عوامل تھے جنہوں نے امریکہ کو بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں دنیا کی واحد سپر پاور بننے کی راہ پر گامزن کیا۔

send your detail