Skip to main content

Shehr-e-Farid

HIV/AIDS Risk and Prevention in Rojhan Tehsil, Rajanpur

HIV-AIDS-CAUSES-PREVENTIONS
Spread the love

نیا اس وقت جن خطرناک بیماریوں، وباؤں اور صحت کے بحرانوں کا سامنا کر رہی ہے، ان میں HIV/AIDS ایک انتہائی سنگین، حساس اور عالمی مسئلہ ہے۔ یہ بیماری صرف طبی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی، معاشی، اخلاقی اور انسانی بحران بھی بن چکی ہے۔ اگر بروقت آگاہی، احتیاط اور علاج نہ کیا جائے تو یہ وائرس خاموشی سے پورے معاشرے میں پھیل سکتا ہے۔ جنوبی پنجاب کے بعض پسماندہ علاقوں میں غربت، بے روزگاری، کم تعلیمی شرح، طبی سہولیات کی کمی، غیر محفوظ طبی طریقوں اور غیر محفوظ جنسی روابط کی وجہ سے HIV کے پھیلاؤ کا خطرہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
ہر سال یکم دسمبر کو دنیا بھر میں “ورلڈ ایڈز ڈے” منایا جاتا ہے تاکہ لوگوں میں اس بیماری کے بارے میں شعور بیدار کیا جا سکے۔ عالمی ادارۂ صحت اور اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے UNAIDS کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً چار کروڑ سے زائد افراد HIV کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ ہر سال لاکھوں نئے کیسز سامنے آتے ہیں۔ افریقہ خصوصاً جنوبی افریقہ ان ممالک میں شامل ہے جہاں HIV/AIDS کے مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ غربت، جہالت، غیر محفوظ جنسی تعلقات، غیر محفوظ خون کی منتقلی اور ناقص طبی نظام اس بیماری کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات سمجھی جاتی ہیں۔
دراصل “ہیومن امیونو ڈیفیشنسی وائرس” (HIV)ہے، جو انسانی جسم کے مدافعتی نظام پر حملہ کرتا ہے۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ بیماری AIDS میں تبدیل ہو جاتی ہے، جس کے بعد جسم مختلف بیماریوں کے خلاف اپنی قوتِ مدافعت کھو دیتا ہے۔ یہ وائرس غیر محفوظ جنسی تعلقات، متاثرہ سرنج، غیر محفوظ خون کی منتقلی، متاثرہ ماں سے بچے کو منتقل ہونے اور غیر جراثیم کش بلیڈ یا طبی آلات کے ذریعے پھیل سکتا ہے۔
ماہرین صحت واضح کرتے ہیں کہ HIV ہاتھ ملانے، ساتھ بیٹھنے، کھانا کھانے یا عام میل جول سے نہیں پھیلتا۔ یہی وجہ ہے کہ متاثرہ افراد کے ساتھ نفرت یا امتیازی سلوک کے بجائے علاج، کونسلنگ اور ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے۔
پاکستان میں بھی HIV کے کیسز میں اضافہ تشویش ناک سمجھا جا رہا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق ملک میں ہزاروں رجسٹرڈ مریض موجود ہیں، جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں بہت سے لوگ ٹیسٹ نہیں کرواتے۔ حکومت پاکستان، نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام اور صوبائی محکمہ صحت HIV کی روک تھام کے لیے مختلف اقدامات کر رہے ہیں، مگر دیہی علاقوں میں شعور کی کمی اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
ضلع راجن پور کی تحصیل روجھان کے نواحی علاقے “بہشت دی پٹی” کے حوالے سے بھی مقامی سماجی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے، جہاں مبینہ طور پر طویل عرصے سے غیر اخلاقی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ سماجی کارکنوں اور مقامی افراد کے مطابق وہاں شعور، طبی سہولیات، احتیاطی تدابیر اور صحت سے متعلق آگاہی کی شدید کمی، جنسی غیر محفوظ عمل جس کی وجہ سے HIV سمیت دیگر بیماریوں کے پھیلنے کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ مستقبل میں ایک بڑے ہیلتھ بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ خصوصاً خون کی ناقص اسکریننگ، غیر محفوظ بلیڈ، غیر رجسٹرڈ میڈیکل سینٹرز، عطائی ڈاکٹروں، ایک ہی سرنج کے بار بار استعمال اور غیر تربیت یافتہ افراد کے ذریعے طبی عمل اس خطرے کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقوں میں بعض اوقات خون کی منتقلی کے نظام میں مکمل احتیاط نہ ہونے کے باعث بھی خطرناک بیماریاں پھیلنے کے امکانات موجود رہتے ہیں۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں HIV/AIDS پر قابو پانے کے لیے سخت طبی قوانین نافذ کیے گئے ہیں۔ یورپ، امریکہ، کینیڈا اور دیگر ممالک میں خون کی اسکریننگ، محفوظ طبی آلات، رجسٹرڈ میڈیکل سینٹرز، فری ٹیسٹنگ، کونسلنگ اور علاج کے جدید مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ اقوام متحدہ اور عالمی ادارۂ صحت مسلسل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ HIV/AIDS کو صرف طبی نہیں بلکہ سماجی اور انسانی مسئلہ سمجھ کر حل کیا جائے۔
ماہرین کے مطابق HIV کا مکمل علاج ابھی تک دریافت نہیں ہوا، تاہم جدید ادویات اور اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی کے ذریعے مریض نارمل زندگی گزار سکتے ہیں۔ بروقت تشخیص اور مستقل علاج سے وائرس کو کافی حد تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں HIV ٹیسٹنگ، احتیاط اور آگاہی پر زور دیا جاتا ہے۔
اسلام نے بھی انسانی پاکیزگی، اخلاقیات اور معاشرتی تحفظ پر بے حد زور دیا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، بے شک وہ بے حیائی اور بہت برا راستہ ہے۔”
اسی طرح نبی کریم ﷺ نے پاکیزگی، احتیاط اور اخلاقی زندگی کی تعلیم دی۔ احادیث مبارکہ میں معاشرے کو بے حیائی، فحاشی اور اخلاقی برائیوں سے بچانے کی تاکید کی گئی تاکہ انسان خود بھی محفوظ رہے اور معاشرہ بھی بیماریوں اور تباہی سے محفوظ رہ سکے۔ اسلامی تعلیمات دراصل انسانیت، صحت اور معاشرتی تحفظ کی ضمانت فراہم کرتی ہیں۔
آج یہ مسئلہ صرف ایک بیماری یا ایک علاقے کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ پورے معاشرے، صحت کے نظام اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پنجاب خصوصاً وزیراعلیٰ پنجاب فوری طور پر ضلع راجن پور کے لیے خصوصی ایمرجنسی ہیلتھ پلان تشکیل دیں۔ بہشت دی پٹی جیسے علاقوں میں فوری میڈیکل کیمپس لگائے جائیں، HIV اسکریننگ اور کونسلنگ کا نظام بہتر بنایا جائے، جبکہ محکمہ صحت کو خصوصی ہدایات جاری کی جائیں تاکہ خون کی اسکریننگ، سرنج، بلیڈ اور طبی آلات کے استعمال کی سخت نگرانی ہو سکے۔
اسی طرح “بہشت دی پٹی” جیسے حساس علاقوں میں آگاہی سیمینارز، ورکشاپس اور سوشل موبلائزیشن پروگرام شروع کیے جائیں۔ این جی اوز، سوشل ورکرز، علماء، اساتذہ۔ عمائدین اور مقامی سیاستدانوں کو اس مہم کا حصہ بنایا جائے تاکہ لوگوں میں شعور پیدا ہو اور بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ خواتین کی بحالی، کونسلنگ اور متبادل روزگار کے پروگرام بھی شروع کیے جائیں تاکہ وہ غربت اور مجبوری کے باعث خطرناک ماحول کا حصہ نہ بنیں۔
صرف کارروائیاں مسئلے کا حل نہیں بلکہ غربت، بے روزگاری اور محرومیوں کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ متاثرہ علاقوں میں روزگار، فنی تربیت، چھوٹے کاروبار اور بحالی کے پروگرام شروع کرے تاکہ نوجوان نسل اور خواتین کو متبادل راستے میسر آ سکیں۔
عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ غیر قانونی سرگرمیوں کے مبینہ مراکز کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور ایسے دیرینہ مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے۔ وقتی اقدامات کافی نہیں بلکہ مستقل نگرانی، صحت کی سہولیات، بحالی پروگرام اور سماجی اصلاحات ضروری ہیں۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ آج سے تقریباً دس سے پندرہ سال قبل نامور صحافی اور کالم نگار منو بھائی نے بھی اپنے ایک کالم میں “بہشت دی پٹی” اور وہاں موجود سماجی و اخلاقی مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر بروقت اصلاحی، سماجی اور صحت کے حوالے سے اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں یہ علاقہ مختلف بیماریوں اور سماجی بحرانوں کا مرکز بن سکتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس وقت ان خدشات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، جس کے باعث آج صورتحال مزید پیچیدہ اور تشویشناک ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر بروقت آگاہی، صحت کی سہولیات، بحالی پروگرام اور سماجی اصلاحات پر کام کیا جاتا تو شاید آج حالات اس قدر سنگین نہ ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ اب مزید غفلت کی گنجائش نہیں رہی
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اس حساس مسئلے کو خاموشی یا خوف کے بجائے سنجیدگی، شعور اور ذمہ داری کے ساتھ دیکھا جائے۔ اگر حکومت، محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ، میڈیا، علماء، سماجی تنظیمیں اور عوام مل کر کام کریں تو HIV/AIDS کے پھیلاؤ کو بڑی حد تک روکا جا سکتا ہے۔ صحت مند، باشعور اور محفوظ معاشرہ ہی ترقی یافتہ قوموں کی اصل پہچان ہوتا ہے۔

send your detail