دنیا میں انسان بے شمار رشتوں کے سائے میں زندگی گزارتا ہے۔ کچھ رشتے اسے وراثت میں ملتے ہیں، کچھ قانون اور سماج عطا کرتے ہیں، مگر ایک رشتہ ایسا بھی ہے جسے انسان خود اپنی مرضی، اپنے کردار اور اپنے اعتماد کی بنیاد پر منتخب کرتا ہے، اور وہ رشتہ دوستی کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دوستی کو دنیا کا سب سے خوبصورت، آزاد اور بااعتماد تعلق کہا جاتا ہے۔ ایک سچا دوست صرف خوشیوں کا ساتھی نہیں ہوتا بلکہ مشکلات میں سہارا، غلطیوں میں رہنما اور کامیابی میں مخلص خیرخواہ بھی ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ عظیم شخصیات، کامیاب قوموں اور مضبوط معاشروں کی تشکیل میں مخلص دوستی اور باہمی اعتماد نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔
بدقسمتی سے آج کا انسان سائنسی ترقی، جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے بے مثال دور میں داخل ہونے کے باوجود پہلے سے زیادہ تنہائی، ذہنی دباؤ، نفرت، عدم برداشت اور سماجی فاصلے کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ ہزاروں آن لائن رابطے ہونے کے باوجود دلوں کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں دوستی کا تصور صرف ایک سماجی تعلق نہیں بلکہ انسانیت، امن، رواداری اور باہمی احترام کی ضرورت بن چکا ہے۔ یہی احساس دنیا کو اس مقام تک لے کر آیا جہاں دوستی کو عالمی سطح پر فروغ دینے کے لیے ایک مخصوص دن منانے کا فیصلہ کیا گیا۔
اسی مقصد کے تحت اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2011 میں 30 جولائی کو عالمی یومِ دوستی (International Day of Friendship) قرار دیا۔ اس دن کا بنیادی مقصد مختلف مذاہب، قوموں، ثقافتوں اور نسلوں کے درمیان احترام، مکالمے، برداشت اور تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اقوامِ متحدہ کا مؤقف ہے کہ اگر انسان ایک دوسرے کو دشمن نہیں بلکہ دوست کے طور پر دیکھنا سیکھ جائیں تو دنیا میں امن، استحکام اور ترقی کی راہیں مزید ہموار ہو سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال اس موقع پر نوجوانوں، تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور مختلف ممالک کو دوستی، امن اور انسانی یکجہتی کے فروغ کی ترغیب دی جاتی ہے۔
اگرچہ اقوامِ متحدہ کے مطابق عالمی یومِ دوستی 30 جولائی کو منایا جاتا ہے، تاہم پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، نیپال اور جنوبی ایشیا کے کئی دیگر ممالک میں اگست کے پہلے اتوار کو بھی فرینڈشپ ڈے منانے کی روایت موجود ہے۔ اس دن نوجوان ایک دوسرے کو فرینڈشپ بینڈ باندھتے ہیں، مبارک باد دیتے ہیں، تحائف کا تبادلہ کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پر اپنے دوستوں کے لیے محبت اور احترام کے پیغامات شیئر کرتے ہیں۔ تاہم اس دن کی اصل روح صرف رسمی تقریبات نہیں بلکہ انسانی تعلقات کو مضبوط بنانا، اختلافات کو کم کرنا اور محبت و اعتماد کو فروغ دینا ہے۔
دوستی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی خود انسانی تہذیب۔ قدیم یونان کے فلسفی دوستی کو انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت قرار دیتے تھے، جبکہ مشرقی تہذیبوں میں وفاداری، ایثار، سچائی اور خیرخواہی پر مبنی دوستی کو اعلیٰ اخلاقی وصف سمجھا جاتا تھا۔ ہر دور میں یہ حقیقت تسلیم کی گئی کہ انسان کی شخصیت اس کے دوستوں اور صحبت سے متاثر ہوتی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی شخص کے کردار کو جاننا ہو تو اس کے دوستوں کو دیکھ لیا جائے۔
پاکستان جیسے معاشرے میں، جہاں نوجوان آبادی ملک کی سب سے بڑی طاقت ہے، دوستی کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ایک اچھا دوست تعلیم، کردار، مثبت سوچ اور کامیابی کی طرف لے جا سکتا ہے، جبکہ غلط صحبت انسان کو منفی عادات، جرائم، منشیات اور انتہاپسندی کی طرف بھی دھکیل سکتی ہے۔ اس لیے والدین، اساتذہ اور معاشرے کی یہ ذمہ داری ہے کہ نوجوانوں میں ایسی دوستی کے رجحان کو فروغ دیا جائے جو اخلاق، علم، برداشت اور خدمتِ انسانیت پر قائم ہو۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عالمی یومِ دوستی کو محض ایک رسم یا سوشل میڈیا کی مہم نہ سمجھیں بلکہ اسے اپنے رویوں میں مثبت تبدیلی لانے کا موقع بنائیں۔ اگر ہم اپنے گھروں، تعلیمی اداروں، دفاتر اور معاشرے میں احترام، برداشت، دیانت داری اور خیرخواہی کو فروغ دیں تو یہی دوستی آگے چل کر قومی یکجہتی اور عالمی امن کی بنیاد بن سکتی ہے۔
دوستی صرف ایک سماجی تعلق نہیں بلکہ انسان کی شخصیت، کردار اور مستقبل کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ انسان جن لوگوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارتا ہے، ان کے خیالات، عادات اور رویے کسی نہ کسی حد تک اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اسی لیے ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ ایک اچھا دوست انسان کے لیے نعمت اور برا دوست اس کی زندگی کے لیے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ نوجوانی کے دور میں یہ حقیقت اور بھی زیادہ اہم ہو جاتی ہے، کیونکہ اسی عمر میں انسان اپنے مستقبل کی سمت کا تعین کرتا ہے۔
اسلام نے بھی دوستی کو بہت اہمیت دی ہے، لیکن اس کے ساتھ اچھے دوست کے انتخاب پر خاص زور دیا ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ انسان کو ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہیں جو نیکی، دیانت، سچائی اور تقویٰ کی طرف رہنمائی کریں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق دوست وہ ہے جو صرف خوشی کے لمحات میں نہیں بلکہ آزمائش کے وقت بھی ساتھ کھڑا رہے، غلطی پر اصلاح کرے اور اپنے دوست کو برائی سے بچانے کی کوشش کرے۔ یہی دوستی انسان کی دنیا بھی سنوارتی ہے اور آخرت کے لیے بھی خیر کا ذریعہ بنتی ہے۔
آج کا دور سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل رابطوں کا دور ہے۔ چند لمحوں میں دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود شخص سے رابطہ ممکن ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام، ایکس، ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز نے دوستی کے دائرے کو وسیع ضرور کیا ہے، لیکن ایک اہم سوال بھی پیدا کیا ہے کہ کیا آن لائن تعلقات ہمیشہ حقیقی دوستی کا نعم البدل بن سکتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ سینکڑوں یا ہزاروں آن لائن “فرینڈز” ہونے کے باوجود بہت سے لوگ تنہائی، ذہنی دباؤ اور جذباتی عدم اطمینان کا شکار ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حقیقی دوستی صرف رابطے کا نام نہیں بلکہ اعتماد، وقت، قربانی اور اخلاص کا تقاضا کرتی ہے۔
ماہرینِ نفسیات کا خیال ہے کہ مخلص دوست انسان کے ذہنی سکون، خوداعتمادی اور جذباتی استحکام میں مثبت کردار ادا کرتے ہیں۔ مشکل حالات میں ایک اچھا دوست انسان کو حوصلہ دیتا ہے، درست مشورہ دیتا ہے اور اسے مایوسی سے نکالنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اسی لیے جدید معاشروں میں بھی دوستی کو صرف ذاتی تعلق نہیں بلکہ ذہنی صحت اور سماجی استحکام کے ایک اہم ستون کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
پاکستان میں نوجوان آبادی ملک کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ اگر نوجوان تعلیم، تحقیق، خدمتِ خلق، مثبت سوچ اور کردار سازی پر یقین رکھنے والے دوستوں کا انتخاب کریں تو اس کے اثرات صرف ان کی ذاتی زندگی تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا معاشرہ اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس کے برعکس منفی صحبت، منشیات، تشدد، انتہاپسندی، نفرت انگیز سوچ اور غیر ذمہ دارانہ رویوں کی طرف بھی لے جا سکتی ہے۔ اس لیے والدین، اساتذہ اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ نوجوانوں کو اچھی صحبت کی اہمیت سے آگاہ کریں۔
عالمی یومِ دوستی ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ دوستی صرف افراد کے درمیان نہیں بلکہ قوموں اور ریاستوں کے درمیان بھی ہونی چاہیے۔ دنیا میں امن اسی وقت ممکن ہے جب اختلافات کو بات چیت، احترام اور تعاون کے ذریعے حل کیا جائے۔ بین الثقافتی اور بین المذاہب روابط، طلبہ کے تبادلے، کھیلوں، ادب اور ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے مختلف معاشروں کے درمیان اعتماد کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جسے اقوامِ متحدہ عالمی یومِ دوستی کے ذریعے دنیا بھر میں فروغ دینا چاہتی ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ہم دوستی کو صرف ایک دن کی تقریب تک محدود نہ رکھیں۔ اگر ہمارے رویوں میں دیانت، وفاداری، احترام، برداشت اور خیرخواہی شامل ہو جائیں تو یہی اقدار ایک مضبوط معاشرے، باکردار نوجوان نسل اور پرامن دنیا کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ دوستی کا اصل حسن یہی ہے کہ یہ انسان کو انسان کے قریب لاتی ہے، نفرتوں کو کم کرتی ہے اور امید کے نئے چراغ روشن کرتی ہے
: عالمی یومِ دوستی: انسانیت کو جوڑنے والا لازوال رشتہ (حصہ سوم)
ہر سال جب عالمی یومِ دوستی منایا جاتا ہے تو یہ دن ہمیں صرف دوستوں کو مبارک باد دینے یا سوشل میڈیا پر تصاویر اور پیغامات شیئر کرنے کی یاد نہیں دلاتا، بلکہ یہ اس حقیقت کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے کہ ایک بہتر معاشرہ صرف مضبوط معیشت، جدید ٹیکنالوجی یا بلند و بالا عمارتوں سے نہیں بنتا، بلکہ ایسے انسانوں سے تشکیل پاتا ہے جو ایک دوسرے کا احترام کریں، اختلافِ رائے کو برداشت کریں، ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوں اور خیرخواہی کو اپنی زندگی کا اصول بنائیں۔ یہی وہ اقدار ہیں جن پر حقیقی دوستی کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔
پاکستان ایک نوجوان ملک ہے جہاں آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہی نوجوان آنے والے کل کے سائنس دان، اساتذہ، ڈاکٹر، انجینئر، صحافی، وکیل، کاروباری افراد، سرکاری افسران اور سیاسی رہنما ہوں گے۔ اگر آج ان کی دوستی علم، کردار، دیانت، خدمتِ خلق اور مثبت سوچ پر استوار ہوگی تو کل یہی اقدار پورے معاشرے میں منتقل ہوں گی۔ لیکن اگر دوستی کا معیار صرف وقتی مفاد، نمائش، نفرت یا غیر ذمہ دارانہ رویوں تک محدود ہو جائے تو اس کے منفی اثرات بھی پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتے ہیں۔
بدقسمتی سے جدید دور میں دوستی کا تصور بھی کئی حوالوں سے بدل رہا ہے۔ سوشل میڈیا نے رابطے آسان بنا دیے ہیں، مگر تعلقات کی گہرائی کم ہوتی محسوس ہوتی ہے۔ آج کسی شخص کے سینکڑوں یا ہزاروں آن لائن دوست ہو سکتے ہیں، لیکن مشکل وقت میں اس کے ساتھ کھڑے ہونے والے چند ہی لوگ ہوتے ہیں۔ اس حقیقت سے یہ سبق ملتا ہے کہ دوستی کا معیار تعداد نہیں بلکہ اعتماد، وفاداری، اخلاص اور قربانی ہے۔ ایک مخلص دوست سینکڑوں رسمی تعلقات سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی دوستی کی اہمیت صرف افراد تک محدود نہیں۔ آج دنیا کو موسمیاتی تبدیلی، غربت، دہشت گردی، وبائی امراض، غذائی عدم تحفظ اور معاشی بحران جیسے مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان مسائل کا حل محاذ آرائی میں نہیں بلکہ باہمی تعاون، مکالمے اور اعتماد میں پوشیدہ ہے۔ جب ممالک ایک دوسرے کے ساتھ احترام، انصاف اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعلقات استوار کرتے ہیں تو نہ صرف تنازعات میں کمی آتی ہے بلکہ عالمی ترقی اور استحکام کے نئے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اسی سوچ کی عکاسی عالمی یومِ دوستی کرتا ہے کہ اختلافات کے باوجود انسانیت کو ایک مشترکہ مستقبل کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔
ہمارے تعلیمی اداروں، گھروں اور معاشرتی ماحول میں بھی اس دن کے پیغام کو عملی شکل دینے کی ضرورت ہے۔ بچوں اور نوجوانوں کو یہ سکھایا جائے کہ اچھا دوست وہ نہیں جو صرف خوشیوں میں ساتھ ہو، بلکہ وہ ہے جو غلطی پر اصلاح کرے، مشکل وقت میں حوصلہ دے، سچ بولنے کی ہمت رکھے اور دوسروں کی کامیابی پر دل سے خوش ہو۔ ایسی دوستی نہ صرف فرد کی شخصیت کو نکھارتی ہے بلکہ معاشرے میں اعتماد، برداشت اور باہمی احترام کو بھی فروغ دیتی ہے۔
عالمی یومِ دوستی ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ دنیا کو نفرت سے زیادہ محبت، تعصب سے زیادہ برداشت، اور دشمنی سے زیادہ دوستی کی ضرورت ہے۔ اگر ہم اپنے روزمرہ کے رویوں میں احترام، انصاف، دیانت داری اور خیرخواہی کو جگہ دیں تو یہی چھوٹے چھوٹے اقدامات ایک بڑے سماجی انقلاب کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ دوستی صرف ایک جذباتی تعلق نہیں بلکہ انسانیت کو جوڑنے والی ایک ایسی طاقت ہے جو سرحدوں، زبانوں، رنگوں اور ثقافتوں سے بالاتر ہو کر دلوں کو قریب لاتی ہے۔
آج جب ہم عالمی یومِ دوستی مناتے ہیں تو ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنی دوستی کو صرف رسمی مبارک باد یا سوشل میڈیا کی پوسٹ تک محدود نہیں رکھیں گے، بلکہ اسے اپنے کردار، گفتار اور عمل میں بھی ظاہر کریں گے۔ کیونکہ سچی دوستی وہ ہے جو انسان کو بہتر انسان بنائے، معاشرے میں خیر پھیلائے اور دنیا کو امن، محبت اور باہمی احترام کا گہوارہ بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ یہی عالمی یومِ دوستی کا اصل پیغام ہے، اور یہی وہ پیغام ہے جس کی آج کے دور میں سب سے زیادہ ضرورت ہ