Skip to main content

Shehr-e-Farid

Rajanpur & Education System

world education system
Spread the love

Where Does Rajanpur District Stand in the
Education System of Pakistan and the World?

دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جن قوموں نے علم، تحقیق، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کو عزت دی، وہ دنیا کی قیادت کرتی رہیں، جبکہ جن معاشروں نے تعلیم کو نظر انداز کیا وہ غربت، پسماندگی اور انحصار کا شکار ہو گئے۔ آج کے جدید دور میں ترقی صرف سڑکوں، عمارتوں یا ہتھیاروں سے نہیں بلکہ تعلیم، شعور، تحقیق اور ہنر سے حاصل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اپنی سب سے زیادہ سرمایہ کاری تعلیم، یونیورسٹیوں، اساتذہ اور سائنسی تحقیق پر کرتے ہیں۔
اسلام نے بھی چودہ سو سال پہلے علم کی اہمیت واضح کر دی تھی۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین ہی جانا پڑے۔”
یہ وہ زمانہ تھا جب نہ جدید یونیورسٹیاں تھیں اور نہ ہی ٹیکنالوجی، مگر اسلام نے اس وقت بھی علم کو انسان کی اصل طاقت قرار دیا۔ قرآن پاک کی پہلی وحی “اقرأ” یعنی “پڑھو” سے شروع ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک مہذب اور ترقی یافتہ معاشرہ صرف علم سے ہی وجود میں آتا ہے۔
آج اگر دنیا کی بہترین سو یونیورسٹیوں کو دیکھا جائے تو سب سے زیادہ یونیورسٹیاں امریکہ کی ہیں۔ مختلف عالمی درجہ بندیوں کے مطابق امریکہ کی تقریباً چالیس یونیورسٹیاں دنیا کی ٹاپ سو جامعات میں شامل ہوتی ہیں۔ برطانیہ کی تقریباً دس، چین کی آٹھ سے بارہ، جاپان کی چار سے پانچ، فرانس کی تین سے پانچ اور کینیڈا کی بھی کئی یونیورسٹیاں دنیا کی بہترین جامعات میں شمار ہوتی ہیں۔ بھارت نے بھی حالیہ برسوں میں تعلیم پر سرمایہ کاری بڑھائی ہے اور اس کی چند جامعات عالمی درجہ بندی میں جگہ بنا رہی ہیں۔ دوسری طرف پوری مسلم دنیا میں گنتی کی چند یونیورسٹیاں ہی عالمی معیار تک پہنچ پائی ہیں، جبکہ پاکستان کی کوئی یونیورسٹی مستقل طور پر دنیا کی ٹاپ سو جامعات میں شامل نہیں ہو سکی۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک صرف یونیورسٹیاں نہیں بناتے بلکہ اپنے اساتذہ کو بھی بے حد عزت اور سہولیات دیتے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، جرمنی، جاپان اور کینیڈا میں ایک استاد کو قوم کا معمار سمجھا جاتا ہے۔ وہاں اساتذہ کی تنخواہیں لاکھوں پاکستانی روپوں کے برابر ہوتی ہیں۔ انہیں ہیلتھ انشورنس، تحقیق کے مواقع، جدید تربیت، رہائشی سہولیات اور سماجی عزت فراہم کی جاتی ہے۔ فن لینڈ جیسے ملک میں استاد بننا ڈاکٹر یا انجینئر بننے جتنا مشکل سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہاں صرف قابل ترین افراد کو تدریس کے شعبے میں آنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
چین نے اپنی ترقی کی بنیاد ہی اساتذہ، تحقیق اور تعلیمی اداروں پر رکھی۔ جاپان میں ایک استاد کو انتہائی عزت دی جاتی ہے اور وہاں بچے کھڑے ہو کر اساتذہ کو سلام کرتے ہیں۔ جرمنی نے فنی تعلیم اور صنعتی تربیت کو اپنی معیشت کے ساتھ جوڑا، اسی لیے وہ آج بھی دنیا کی بڑی صنعتی طاقتوں میں شمار ہوتا ہے۔
اس کے مقابلے میں پاکستان کی صورتحال تشویشناک ہے۔ یہاں اساتذہ کی اکثریت کم تنخواہوں، محدود وسائل اور بے شمار مسائل کا شکار ہے۔ دیہی علاقوں میں ہزاروں اسکول بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ کہیں اساتذہ کم ہیں، کہیں عمارتیں خستہ حال ہیں اور کہیں بچوں کے بیٹھنے تک کا مناسب انتظام موجود نہیں۔ ہمارے ہاں استاد کو وہ مقام اور سہولیات نہیں ملتیں جو ترقی یافتہ ممالک میں دی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل تدریس کے شعبے کو کم ترجیح دیتی ہے۔
پاکستان اپنے مجموعی قومی بجٹ کا بہت کم حصہ ایک سے ڈیڑھ فیصد تعلیم پر خرچ کرتا ہے، جبکہ ترقی یافتہ ممالک اپنی قومی آمدن کا چار سے سات فیصد تک تعلیم پر خرچ کرتے ہیں۔ اگر ہم واقعی ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم اور اساتذہ دونوں کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔
اگر جنوبی پنجاب خصوصاً ضلع راجن پور کی صورتحال دیکھی جائے تو مسئلہ مزید سنگین نظر آتا ہے۔ پاکستان کی شرح خواندگی تقریباً ساٹھ فیصد ہے جبکہ راجن پور میں یہ شرح تقریباً چھتیس فیصد کے قریب سمجھی جاتی ہے۔ بچیوں کی تعلیم کی صورتحال تو اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے جہاں بعض علاقوں میں لڑکیوں کی شرح خواندگی پندرہ سے بیس فیصد تک محدود ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے سو سال بعد بھی راجن پور ترقی یافتہ اضلاع کی صف میں شامل نہیں ہو سکے گا۔
یہ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مشترکہ فرض ہے کہ تعلیم کو بچایا جائے۔ راجن پور میں تعلیمی انقلاب لانے کے لیے کئی بنیادی اقدامات فوری طور پر کیے جا سکتے ہیں۔
سب سے پہلے حکومت کو ہر یونین کونسل میں جدید اسکول قائم کرنے چاہییں۔ خستہ حال اسکولوں کی مرمت، صاف پانی، بجلی، فرنیچر اور کمپیوٹر لیب جیسی سہولیات فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے کے لیے سخت نگرانی کا نظام ہونا چاہیے۔
دوسرا اہم کردار سیاستدانوں کا ہے۔ اگر سیاستدان سڑکوں اور جلسوں کے بجائے تعلیم کو اپنی پہلی ترجیح بنا لیں تو پورا ضلع بدل سکتا ہے۔ ہر ایم این اے اور ایم پی اے کو کم از کم چند ماڈل اسکول اپنی نگرانی میں قائم کرنے چاہییں۔ تعلیمی وظائف، لیپ ٹاپ اسکیمیں اور بچیوں کے لیے خصوصی پروگرام شروع کیے جائیں۔
تیسرا کردار سول سوسائٹی اور مخیر حضرات کا ہے۔ اگر صاحبِ حیثیت لوگ ایک ایک بچے کی تعلیم کا ذمہ لے لیں تو ہزاروں بچے اسکول جا سکتے ہیں۔ سماجی تنظیمیں دیہی علاقوں میں آگاہی مہمات چلا سکتی ہیں تاکہ والدین بچیوں کو تعلیم دلانے کی اہمیت سمجھ سکیں۔
میڈیا کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ مقامی صحافیوں، اخبارات اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو تعلیم کے مسائل اجاگر کرنے چاہییں۔ ہر گاؤں میں یہ شعور پیدا کرنا ہوگا کہ تعلیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔
راجن پور کے پرائیویٹ اسکول بھی قابلِ تعریف کام کر رہے ہیں۔ محدود وسائل کے باوجود کئی نجی تعلیمی ادارے معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ان اداروں کا ساتھ دے۔ پرائیویٹ اسکولوں کو بجلی کے بلوں میں رعایت دی جائے، غیر ضروری ٹیکس کم کیے جائیں، اساتذہ کی تربیت کے پروگرام شروع کیے جائیں اور غریب بچوں کے لیے مفت کتابوں اور وظائف کا نظام بنایا جائے۔
اساتذہ کی تنخواہیں بھی بہتر بنانا ضروری ہیں کیونکہ ایک پریشان حال استاد کبھی بہترین نسل تیار نہیں کر سکتا۔ جب استاد معاشی طور پر مضبوط ہوگا تو وہ بہتر انداز میں بچوں کی تربیت کر سکے گا۔
دنیا کی کئی بڑی یونیورسٹیوں میں مسلسل سیکھنے اور تحقیق کا نظام موجود ہے۔ برطانیہ اور امریکہ کی بعض جامعات میں اساتذہ اور طلبہ کو ہر سال اپنی کارکردگی، تحقیق اور علمی معیار کو اپ ڈیٹ کرنا پڑتا ہے۔ ہارورڈ، آکسفورڈ اور کیمبرج جیسی جامعات میں مسلسل تحقیق، تربیت اور تعلیمی معیار کی جانچ کو لازمی سمجھا جاتا ہے۔ وہاں ڈگری صرف ایک کاغذ نہیں بلکہ مسلسل سیکھنے کا سفر ہوتی ہے۔
ایک مشہور مثال ہے کہ جاپان میں جنگ کے بعد جب پورا ملک تباہ ہو چکا تھا تو وہاں کے حکمرانوں نے سب سے پہلے اساتذہ کو جمع کیا اور کہا:
“ہمیں نئی عمارتیں نہیں بلکہ نئی سوچ والے لوگ چاہییں۔”
آج جاپان دنیا کی ترقی یافتہ قوموں میں شامل ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قومیں ایٹم بم سے نہیں بلکہ تعلیم اور اساتذہ سے ترقی کرتی ہیں۔
پاکستان خصوصاً راجن پور کو بھی یہی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ ہر بچے کو اسکول، ہر نوجوان کو ہنر، ہر استاد کو عزت اور ہر بچی کو تعلیم دینا ہوگی۔ جب کتاب ہر گھر تک پہنچے گی، جب استاد کو عزت ملے گی اور جب تعلیم کو سیاست سے اوپر رکھا جائے گا، تبھی حقیقی تبدیلی آئے گی۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بڑے بڑے سیاستدانوں، سرمایہ کاروں اور قومی رہنماؤں نے تعلیم پر اربوں ڈالر خرچ کیے۔ امریکہ، یورپ اور چین میں جدید یونیورسٹیاں، ریسرچ سینٹرز اور تعلیمی ادارے اسی وژن کا نتیجہ ہیں۔ وہاں کے حکمران جانتے ہیں کہ تعلیم پر سرمایہ کاری ہی قوموں کی تقدیر بدلتی ہے۔ ہمارے ہاں بھی اگر سیاستدان فیکٹریوں، شوگر ملوں اور دیگر کاروبار کے ساتھ تعلیم کو اپنی ترجیح بنا لیں، جدید اسکول، کالجز اور یونیورسٹیاں قائم کریں تو پورا معاشرہ بدل سکتا ہے۔
ملتان، لاہور، اسلام آباد اور راولپنڈی جیسے شہروں میں بااثر طبقے اور اہلِ بصیرت لوگوں نے تعلیمی اداروں پر خصوصی توجہ دی، جس کے نتیجے میں وہاں شعور، روزگار اور ترقی نے جنم لیا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ضلع راجن پور میں تعلیم اب تک سیاستدانوں اور بااثر طبقے کی اولین ترجیح نہیں بن سکی۔ اگر یہاں بھی بچیوں کی تعلیم، پرائیویٹ اسکولوں، کالجز اور جدید تعلیمی نظام پر سنجیدگی سے توجہ دی جائے تو راجن پور کو ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک
آخر میں یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ قوموں کا مستقبل ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اساتذہ، کتابوں، یونیورسٹیوں اور شعور سے بنتا ہے۔ جو قومیں علم کو عزت دیتی ہیں، دنیا بھی انہی قوموں کو عزت دیتی ہے۔

send your detail