Skip to main content

Shehr-e-Farid

The Establishment of Israel

Spread the love

Palestine, the Ottoman Empire, and the Establishment of Israel:
A Painful Chapter in History

دنیا کی تاریخ میں چند خطے ایسے ہیں جو صرف زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ مذاہب، تہذیبوں، سلطنتوں اور عالمی طاقتوں کی سیاست کا مرکز رہے ہیں۔ فلسطین بھی انہی میں سے ایک ہے۔ آج فلسطین اور اسرائیل کا تنازع صرف ایک سرحدی جھگڑا نہیں بلکہ صدیوں پر محیط تاریخی، مذہبی اور سیاسی کشمکش کا نتیجہ ہے۔ اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے ہمیں ماضی کے کئی اہم ادوار پر نظر ڈالنی پڑتی۔
فلسطین ہزاروں سال سے انسانی تہذیب کا مرکز رہا ہے۔ یہاں کنعانی، عبرانی، رومی، بازنطینی اور مسلمان حکومتیں قائم رہیں۔ یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت ابراہیمؑ، حضرت اسحاقؑ، حضرت یعقوبؑ، حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمانؑ کی سرزمین یہی تھی۔ حضرت داؤدؑ نے تقریباً 1000 قبل مسیح میں یروشلم کو اپنا دارالحکومت بنایا جبکہ حضرت سلیمانؑ نے وہاں مقدس ہیکل تعمیر کی۔
لیکن بعد میں یہودی سلطنتیں کمزور ہو گئیں۔ 586 قبل مسیح میں بابلی بادشاہ بخت نصر نے یروشلم فتح کر لیا اور بہت سے یہودیوں کو جلا وطن کر دیا۔ بعد ازاں رومی سلطنت کے دور میں 70 عیسوی میں دوسری ہیکل تباہ کر دی گئی۔ پھر 135 عیسوی میں رومیوں نے یہودی بغاوت کو کچلنے کے بعد بڑی تعداد میں یہودیوں کو فلسطین سے نکال دیا۔ اسی دور میں رومیوں نے اس علاقے کا نام “سوریا فلسطینا” رکھا تاکہ یہودی شناخت کو کمزور کیا جا سکے۔
یہودی اس کے بعد دنیا کے مختلف حصوں خصوصاً یورپ میں پھیل گئے۔ اس دور کو “Diaspora” کہا جاتا ہے۔
638 عیسوی میں خلافتِ راشدہ کے دور میں حضرت عمرٓ کے زمانے میں مسلمان فلسطین میں داخل ہوئے۔ یروشلم پرامن طریقے سے مسلمانوں کے حوالے کیا گیا۔ اس کے بعد تقریباً تیرہ سو سال تک فلسطین زیادہ تر مسلم حکمرانی کے تحت رہا، اگرچہ صلیبی جنگوں کے دوران کچھ عرصہ عیسائی قبضہ بھی رہا۔
مسلمانوں کے دور میں فلسطین میں مسلمان، عیسائی اور یہودی اکٹھے رہتے تھے۔ بعد میں ایوبیوں، مملوکوں اور پھر عثمانیوں نے اس خطے پر حکومت کی۔
1517 میں Ottoman Empire نے فلسطین کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ تقریباً چار سو سال تک فلسطین عثمانیوں کے ماتحت رہا۔ اس دوران علاقے میں نسبتاً استحکام موجود تھا اور مختلف مذاہب کے لوگ ساتھ رہتے تھے۔
لیکن اٹھارویں اور انیسویں صدی میں سلطنت عثمانیہ کمزور ہونے لگی۔ یورپ صنعتی انقلاب، جدید اسلحے اور مضبوط معیشت کی وجہ سے طاقتور ہو رہا تھا جبکہ عثمانی سلطنت اندرونی بدعنوانی، قوم پرستی، معاشی بحران اور سیاسی کمزوری کا شکار ہو گئی۔
انیسویں صدی کے آخر میں یورپ میں یہودیوں کے خلاف نفرت اور حملے بڑھنے لگے۔ روس اور مشرقی یورپ میں یہودیوں پر مظالم ہوئے۔ اسی ماحول میں “صیہونیت” (Zionism) کی تحریک ابھری جس کا مقصد فلسطین میں یہودی قومی وطن قائم کرنا تھا۔
اس تحریک کے اہم رہنما Theodor Herzl تھے جنہوں نے 1897 میں سوئٹزرلینڈ کے شہر باسل میں پہلی صیہونی کانگریس منعقد کی۔ یہاں فلسطین میں یہودی ریاست کے قیام کا باقاعدہ منصوبہ پیش کیا گیا۔
1914 میں پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی۔ عثمانی سلطنت نے جرمنی کا ساتھ دیا جبکہ برطانیہ، فرانس اور روس اس کے مخالف تھے۔ برطانیہ نے عربوں کو عثمانیوں کے خلاف ابھارنے کے لیے مختلف وعدے کیے۔
1916 میں شریف بن حسین نے برطانیہ کے تعاون سے عرب بغاوت شروع کی۔ عربوں کو یقین دلایا گیا کہ جنگ کے بعد انہیں آزاد عرب ریاستیں دی جائیں گی۔
لیکن اسی دوران برطانیہ اور فرانس نے خفیہ طور پر:
Sykes–Picot Agreement
کیا جس میں مشرقِ وسطیٰ کو آپس میں تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔
2 نومبر 1917 کو برطانوی وزیر خارجہ آرتھر بالفور نے:
Balfour Declaration
جاری کیا۔
اس میں برطانیہ نے فلسطین میں یہودیوں کے لیے “قومی وطن” کی حمایت کا اعلان کیا۔ یہ وہ موڑ تھا جس نے فلسطین کی سیاست بدل دی۔
عربوں نے اسے اپنے ساتھ دھوکہ قرار دیا کیونکہ برطانیہ پہلے ہی عرب آزادی کے وعدے کر چکا تھا۔
1918 میں پہلی جنگ عظیم ختم ہوئی اور عثمانی سلطنت شکست کھا گئی۔ 1922 میں خلافت عثمانیہ باضابطہ طور پر ختم کر دی گئی۔ عرب دنیا مختلف برطانوی اور فرانسیسی علاقوں میں تقسیم ہو گئی۔
فلسطین برطانوی مینڈیٹ کے تحت آ گیا۔ اب برطانیہ فلسطین کا عملی حکمران تھا۔
1920 سے 1940 کے درمیان یورپ سے بڑی تعداد میں یہودی فلسطین منتقل ہونے لگے۔ زمینیں خریدی گئیں، نئی بستیاں قائم ہوئیں اور عسکری تنظیمیں بنیں۔
فلسطینی عربوں کو خدشہ ہونے لگا کہ وہ اپنی ہی سرزمین میں اقلیت بن جائیں گے۔ اسی وجہ سے 1936 سے 1939 تک فلسطینی عرب بغاوت ہوئی جسے برطانیہ نے سختی سے کچل دی۔
1939 میں دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی۔ جرمنی کے نازی حکمران Adolf Hitler نے یہودیوں کے خلاف ہولوکاسٹ شروع کیا۔
تقریباً ساٹھ لاکھ یہودی قتل کیے گئے۔ اس ظلم کے بعد دنیا بھر میں یہودی ریاست کے قیام کے لیے ہمدردی بڑھ گئی۔
1947 میں United Nations نے فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ پیش کیا:
ایک یہودی ریاست
ایک عرب ریاست
یہودی قیادت نے یہ منصوبہ قبول کر لیا لیکن عرب ممالک اور فلسطینیوں نے اسے مسترد کر دیا۔
14 مئی 1948 کو اسرائیل
کے قیام کا اعلان کر دیا گیا۔
اس کے فوراً بعد مصر، اردن، شام، عراق اور دیگر عرب ممالک نے جنگ شروع کر دی مگر اسرائیل نے نہ صرف اپنا وجود برقرار رکھا بلکہ مزید علاقے بھی حاصل کر لیے۔
اس جنگ کے نتیجے میں تقریباً سات لاکھ فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل ہو گئے۔ فلسطینی اس سانحے کو “النکبہ” یعنی عظیم تباہی کہتے ہیں۔
تاریخ دان کئی وجوہات بیان کرتے ہیں جن میں اہم یہ ہیں:
عرب دنیا کا آپس میں تقسیم ہونا
عثمانیوں کی سیاسی اور معاشی ناکامی
انگریزوں کے وعدوں پر حد سے زیادہ اعتماد
فلسطینی قیادت کا منظم سفارتی نظام نہ بنا پانا
عالمی طاقتوں کی سیاست کو صحیح انداز میں نہ سمجھنا
عیسائی یورپ اور اسرائیل کی حمایت
بہت سے یورپی عیسائی رہنما مذہبی وجوہات کی بنا پر بھی یہودی وطن کے قیام کے حامی تھے۔ برطانیہ نے سیاسی مفادات، مشرق وسطیٰ پر کنٹرول اور عالمی اثر و رسوخ کے لیے صیہونی تحریک کی مدد کی۔
بعد میں امریکہ بھی اسرائیل کا بڑا حامی بن گیا۔
فلسطین کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب کوئی قوم اندرونی طور پر کمزور، تقسیم اور علمی و سیاسی لحاظ سے پسماندہ ہو جائے تو بیرونی طاقتیں اس کے مستقبل کا فیصلہ کرنے لگتی ہیں۔ فلسطین کا مسئلہ صرف زمین کا تنازع نہیں بلکہ تاریخ، مذہب، سیاست، طاقت اور عالمی مفادات کی ایک طویل جنگ ہے۔
آج بھی فلسطینی عوام اپنی ریاست، آزادی اور بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جبکہ اسرائیل اپنی سلامتی اور وجود کے تحفظ کی بات کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تنازع آج بھی دنیا کے سب سے حساس مسائل میں شمار ہوتا ہے۔

send your detail