درخت موسمیاتی تبدیلی، سیلاب، معیشت اور انسانی بقا کی ضرورت۔
دنیا اس وقت ایک ایسے خطرناک دور سے گزر رہی ہے جہاں انسانی ترقی خود انسان کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادیاں، ہاؤسنگ سوسائٹیاں، صنعتی آلودگی، جنگلات کی بے دریغ کٹائی، پہاڑوں کا خاتمہ اور کنکریٹ کے جنگل زمین کے قدرتی حسن اور ماحولیاتی توازن کو تباہ کر رہے ہیں۔ شدید گرمی، بے موسم بارشیں، خشک سالی، گلیشیئرز کا پگھلنا، پانی کی قلت، فضائی آلودگی اور تباہ کن سیلاب اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ انسان نے قدرتی نظام کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور ظلم کیا ہے۔ اگر اب بھی انسان نہ جاگا تو آنے والی نسلوں کو صاف ہوا، پانی اور محفوظ ماحول میسر نہیں ہوگا۔ آج پوری دنیا کو اگر کسی چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے تو وہ درخت ہیں، کیونکہ درخت ہی زمین کے اصل محافظ، انسان کے خاموش محسن اور قدرتی ماحول کے سب سے بڑے نگہبان ہیں۔
سائنسدانوں کے مطابق دنیا میں تقریباً تین کھرب درخت موجود ہیں، مگر ہر سال تقریباً پندرہ ارب درخت کاٹ دیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زمین کا درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ماہرین موسمیات کے مطابق صنعتی دور کے بعد زمین کا اوسط درجہ حرارت تقریباً 1.2 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے۔ گرمی کی لہریں، جنگلاتی آگ، خشک سالی اور سیلاب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے آکسیجن پیدا کرتے ہیں۔ ایک بالغ درخت سالانہ تقریباً 100 سے 120 کلوگرام آکسیجن فراہم کرتا ہے، جو کئی انسانوں کی سانس کی ضرورت پوری کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین درختوں کو “زمین کے پھیپھڑے” کہتے ہیں۔
دنیا کے سب سے بڑے جنگلات میں جنوبی امریکہ کا ایمیزون فاریسٹ سرفہرست ہے، جو تقریباً 55 لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اسے “دنیا کے پھیپھڑے” بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ عالمی ماحولیاتی نظام کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ روس کے سائبیریا کے جنگلات، کینیڈا کے بورئیل فاریسٹ، چین کے سرسبز علاقے اور انڈیا کے جنگلات بھی دنیا کے بڑے قدرتی ذخائر میں شامل ہیں۔ پاکستان میں خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور بلوچستان کے بعض علاقے جنگلات کے لیے مشہور ہیں، مگر افسوس کہ غیر قانونی کٹائی، ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور تجارتی منصوبوں کے باعث یہ جنگلات تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔
درخت صرف لکڑی یا سایہ نہیں بلکہ ایک مکمل زندہ نظام ہیں۔ سائنسی تحقیق کے مطابق درخت سانس لیتے ہیں، پانی جذب کرتے ہیں، غذا بناتے ہیں اور ایک دوسرے سے جڑوں کے ذریعے رابطہ بھی کرتے ہیں۔ نباتات کے ماہرین اسے “Wood Wide Web” کہتے ہیں۔ درخت سورج کی روشنی، پانی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مدد سے فوٹوسنتھیسز کا عمل کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں آکسیجن پیدا ہوتی ہے۔ یہی آکسیجن انسانی زندگی کی بنیاد ہے۔ درخت زمین کے درجہ حرارت کو کم کرتے، ماحول کو صاف رکھتے، بارشوں کے نظام کو بہتر بناتے اور مٹی کو مضبوط کرتے ہیں۔
دنیا میں بڑھتے ہوئے سیلابوں کی ایک بڑی وجہ بھی جنگلات کی کٹائی ہے۔ درخت قدرتی ڈیم کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی جڑیں زمین کو مضبوطی سے پکڑ کر رکھتی ہیں اور بارش کے پانی کو جذب کرتی ہیں۔ جب درخت کاٹ دیے جائیں تو بارش کا پانی تیزی سے نیچے آتا ہے، زمین کمزور ہو جاتی ہے اور تباہ کن سیلاب جنم لیتے ہیں۔ پاکستان میں 2022 کے تباہ کن سیلاب نے لاکھوں گھر، فصلیں، سڑکیں اور پل تباہ کر دیے۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ ساتھ جنگلات کی کمی اور غیر قانونی کٹائی بھی اس تباہی کی بڑی وجوہات میں شامل تھیں۔ شمالی علاقوں میں درختوں کی کٹائی کے باعث لینڈ سلائیڈنگ اور زمین کے کٹاؤ میں اضافہ ہوا، جس نے تباہی کو مزید بڑھایا۔
درخت زمین کو بنجر ہونے سے بھی بچاتے ہیں۔ اگر جنگلات ختم ہو جائیں تو زمین صحرا میں تبدیل ہونے لگتی ہے، زراعت تباہ ہوتی ہے، پانی کم ہوتا ہے اور خوراک کا بحران پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک جنگلات کے تحفظ کو قومی سلامتی کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔
اسلام نے بھی درختوں اور ماحولیات کے تحفظ پر بے حد زور دیا ہے۔ اسلام نے جنگوں کے دوران بھی درخت کاٹنے سے منع فرمایا۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق باغات، کھیتوں اور درختوں کو نقصان پہنچانا غلط عمل ہے۔
ایک حدیث کے مطابق اگر قیامت بھی قائم ہو رہی ہو اور کسی کے ہاتھ میں پودا ہو تو اسے بھی لگا دینا چاہیے۔ یہ تعلیم اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلام ماحولیات کے تحفظ کو عبادت اور انسانیت کی خدمت قرار دیتا ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک نے درختوں کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے بڑے پیمانے پر شجرکاری مہمات شروع کی ہیں۔ چین نے اربوں درخت لگا کر دنیا کو حیران کر دیا۔ ایتھوپیا نے ایک ہی دن میں کروڑوں پودے لگا کر عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ یورپی ممالک میں شاہراہوں، پارکوں، نہروں اور رہائشی علاقوں کے ساتھ ہزاروں درخت لگائے گئے ہیں۔ کئی ممالک میں پھلدار درخت سڑکوں کے کنارے لگائے جاتے ہیں تاکہ ماحول خوبصورت ہونے کے ساتھ عوام بھی فائدہ اٹھا سکیں۔ ترکی، اسپین، اٹلی اور بعض ایشیائی ممالک میں زیتون، انار، مالٹے، سیب اور دوسرے پھلدار درخت عوامی مقامات پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
پاکستان کو بھی اسی ماڈل پر چلنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ہر سڑک، ہر شاہراہ، ہر نہر، ہر پارک، ہر گراؤنڈ اور ہر سرکاری ادارے کے اطراف بڑے پیمانے پر درخت لگائے جائیں۔ صرف سایہ دار ہی نہیں بلکہ پھلدار درخت بھی لگائے جائیں تاکہ ماحول بہتر ہونے کے ساتھ غریب عوام کو بھی فائدہ ہو۔ آم، جامن، انار، شہتوت، کھجور، امرود، زیتون اور نیم جیسے درخت پاکستان کے مختلف علاقوں میں کامیابی سے اگائے جا سکتے ہیں۔
پاکستان زرعی اعتبار سے ایک اہم ملک ہے۔ آم، کینو، کھجور، سیب، امرود، خوبانی اور انار پاکستان کی اہم زرعی پیداوار میں شامل ہیں۔ پاکستانی آم دنیا بھر میں مشہور ہیں اور مشرق وسطیٰ، یورپ، امریکہ اور کینیڈا تک برآمد کیے جاتے ہیں۔ اگر پاکستان جدید زرعی ٹیکنالوجی، کولڈ اسٹوریج، پیکنگ اور برآمدی نظام کو بہتر بنا لے تو پھلدار درخت ملکی معیشت میں انقلاب لا سکتے ہیں۔
دنیا کے بعض پھل انتہائی مہنگے شمار ہوتے ہیں۔ جاپان کا “یوباری میلون” دنیا کے مہنگے ترین پھلوں میں شامل ہے، جبکہ “روبی رومن” انگور بھی انتہائی قیمتی مانے جاتے ہیں۔ امریکہ اور کینیڈا میں آرگینک پھل بہت زیادہ قیمت پر فروخت ہوتے ہیں۔ اگر پاکستان اپنے پھلوں کی کوالٹی، پیکنگ اور برآمدات کو بہتر بنائے تو ملک اربوں ڈالر کا زرمبادلہ حاصل کر سکتا ہے۔
دنیا میں سب سے زیادہ جنگلات روس میں پائے جاتے ہیں، جبکہ پاکستان میں اسلام آباد کو نسبتاً زیادہ سرسبز شہر سمجھا جاتا ہے۔ سائنسی اعتبار سے بانس دنیا میں سب سے تیزی سے بڑھنے والا پودا مانا جاتا ہے۔ دنیا کا سب سے اونچا درخت “ریڈ ووڈ” یا “سیکویا” ہے، جو امریکہ میں پایا جاتا ہے اور 350 فٹ سے زیادہ اونچا ہو سکتا ہے۔ دنیا کا سب سے چھوٹا درخت “ڈارف ولو” کہلاتا ہے، جو چند انچ لمبا ہوتا ہے۔
پاکستان میں ماحولیات کے تحفظ کے لیے قوانین موجود ہیں۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 9 کے تحت صاف اور محفوظ ماحول ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ صوبائی فاریسٹ ایکٹس اور دیگر قوانین کے تحت غیر قانونی طور پر درخت کاٹنا جرم ہے، مگر افسوس کہ ان قوانین پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں “گرین ایمرجنسی” نافذ کریں۔ اگر کوئی شخص ایک درخت کاٹے تو اس کے بدلے کم از کم پانچ نئے پودے لگانا قانونی طور پر لازم قرار دیا جائے۔ درخت کاٹنے والوں پر بھاری جرمانے اور سخت سزائیں دی جائیں۔
ہر فیکٹری، ہر ہاؤسنگ سوسائٹی، ہر اسپتال، ہر اسکول، ہر کالج، ہر یونیورسٹی اور ہر سرکاری ادارے کو سالانہ شجرکاری کا ہدف دیا جائے۔ ضلعی انتظامیہ، محکمہ جنگلات اور بلدیاتی اداروں کو فعال بنایا جائے تاکہ غیر قانونی کٹائی کے خلاف فوری کارروائی ہو سکے۔ میڈیا، علماء، اساتذہ، ڈاکٹرز، وکلاء، بزنس مین، سوشل ورکرز اور نوجوانوں کو بھی اس قومی تحریک کا حصہ بننا ہوگا۔
ہر شہری کو چاہیے کہ وہ اپنے گھر، زمین، دفتر، فارم، گاؤں اور شہر میں کم از کم دو یا چار درخت ضرور لگائے۔ ایک درخت صرف پودا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے سانس، سایہ، بارش، پھل، پانی اور زندگی کا تحفہ ہے۔ اگر انسان نے درختوں کو بچا لیا تو درخت انسان کو بچا لیں گے۔ یہی وقت ہے کہ پاکستان “گرین پاکستان” کو قومی تحریک بنائے، کیونکہ سبز زمین ہی محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔
معاشرے میں اگر غور کیا جائے تو پڑھے لکھے، باشعور اور مہذب لوگوں کے گھروں، فارم ہاؤسز اور رہائش گاہوں میں خوبصورت باغات، سرسبز لان، پھول، پودے اور سایہ دار درخت ضرور نظر آتے ہیں۔ ان کے گھروں کی ٹھنڈک، خوبصورتی اور سکون اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ وہ درختوں کی اہمیت، ماحول کی حفاظت اور صحت مند زندگی کی قدر کو سمجھتے ہیں۔ ترقی یافتہ سوچ رکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ درخت صرف خوبصورتی نہیں بلکہ زندگی، صحت، سکون اور آنے والی نسلوں کی امانت ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مہذب اور تعلیم یافتہ معاشرے شجرکاری کو اپنی ثقافت اور ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
اس کے برعکس جہاں جہالت، بے شعوری اور ماحول سے لاپرواہی ہوتی ہے وہاں درخت کم اور ویرانی زیادہ نظر آتی ہے۔ کچھ لوگ صرف فوری فائدے، لکڑی یا زمین کے لالچ میں درخت کاٹتے رہتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ وہ اپنی آنے والی نسلوں سے سایہ، ٹھنڈک، بارش اور صاف ہوا چھین رہے ہیں۔ باشعور قومیں درخت لگاتی ہیں، جبکہ بے شعور قومیں اپنے ہی ماحول کو تباہ کرتی ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر انسان اپنے گھر، گلی، زمین اور شہر کو سرسبز بنانے کو عزت، شعور اور انسانیت کی نشانی سمجھے۔